انڈونیشیا میں مسافر فیری ورگو ٹرانسپورٹ 8 کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 71 ہوگئی ہے، جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں دو ہفتے سے زیادہ گزرنے کے باوجود ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ، جسے ایکسپریس ٹریبیون نے 29 ستمبر کو شائع کیا، کے مطابق جہاز 13 ستمبر کو خراب موسم کے دوران جاوا سمندر میں الٹ گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فیری سورابایا، مشرقی جاوا سے جنوبی کالیمانتان کے بنجرماسین جا رہی تھی اور اس پر مجموعی طور پر 243 افراد سوار تھے۔ انڈونیشی حکام نے بتایا کہ 108 افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ متعدد مسافر کئی دن تک لاپتا رہے۔ سرچ آپریشن کے سولہویں دن غوطہ خوروں نے مزید لاشیں ملبے کے اندر سے نکالیں، جس کے بعد سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والی اموات کی تعداد 71 تک پہنچ گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے میں داخل ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ جہاز مسلسل ایک جانب سے دوسری جانب جھک رہا ہے، اندر تیز دھار ملبہ بکھرا ہوا ہے اور ایندھن کے رساؤ کے ساتھ گیس کے خطرناک ارتکاز نے غوطہ خوروں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ ایک سینئر سرچ اینڈ ریسکیو عہدیدار نے بتایا کہ انہی حالات کی وجہ سے غوطہ خور بعض کمپارٹمنٹس تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔
حکام نے جہاز چلانے والی کمپنی پر زور دیا ہے کہ فیری کو سیدھا کرنے اور سطح کے قریب لانے کے لیے تکنیکی اقدامات کیے جائیں تاکہ باقی حصوں میں زیادہ محفوظ طریقے سے تلاش کی جا سکے۔ حادثے کے بعد سے ریسکیو آپریشن میں غوطہ خوروں، بحری اہلکاروں اور مقامی ہنگامی ٹیموں نے حصہ لیا ہے، لیکن خراب سمندری حالات اور جہاز کی غیر مستحکم پوزیشن نے کارروائی کو مسلسل پیچیدہ رکھا ہے۔
فیری حادثات انڈونیشیا کے لیے ایک اہم بحری تحفظ کا مسئلہ ہیں کیونکہ ملک ہزاروں جزیروں پر مشتمل ہے اور بین الجزائری سفر میں کشتیوں اور فیریوں پر بڑی حد تک انحصار کیا جاتا ہے۔ تاہم اس مخصوص حادثے کی حتمی وجہ سے متعلق مکمل تحقیق ابھی سامنے نہیں آئی، اس لیے خراب موسم کے علاوہ کسی اضافی سبب کو حتمی طور پر بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ریسکیو حکام کی توجہ اب باقی لاپتا افراد کی تلاش، ملبے تک محفوظ رسائی اور جہاز کو مستحکم کرنے پر ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے کیونکہ سرچ آپریشن مکمل نہیں ہوا اور حکام اب بھی مسافروں کی حتمی فہرست اور برآمد ہونے والی لاشوں کی شناخت پر کام کر رہے ہیں۔

