ایران پاکستان میں آموں کے لیے قائم کیے گئے نئے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ (HWT) پلانٹس کا معائنہ کرنے کے لیے دو رکنی ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن اور ایرانی حکام کے درمیان کئی ماہ کی خط و کتابت اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ مجوزہ دورہ تقریباً تین سال بعد پاکستانی HWT سہولیات کا ایرانی حکام کی جانب سے پہلا معائنہ ہوگا۔
ایرانی ٹیم نئے قائم شدہ پلانٹس کے سازوسامان، ٹریٹمنٹ کے طریقہ کار، آپریٹنگ پروٹوکول اور ایران کی فائیٹو سینیٹری ضروریات سے مطابقت کا جائزہ لے گی۔ آموں کی برآمد میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ اس لیے اہم ہے کہ درآمدی ملک پھلوں میں مخصوص کیڑوں اور بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے منظور شدہ طریقہ علاج اور تصدیق شدہ سہولیات کی شرط عائد کر سکتا ہے۔ اگر مزید پاکستانی پلانٹس منظوری حاصل کر لیتے ہیں تو برآمد کنندگان کے پاس زیادہ گنجائش اور متبادل سہولیات دستیاب ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق ایران پاکستانی آموں کی ایک اہم علاقائی منڈی رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں اس مارکیٹ کو ہونے والی برآمدات میں واضح کمی دیکھی گئی۔ صنعت سے وابستہ ذرائع نے رواں سال ایران کو تقریباً 30 ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا اندازہ دیا، جبکہ گزشتہ ادوار میں یہ مقدار 60 ہزار ٹن سے زیادہ رہی تھی۔ برآمد کنندگان کا خیال ہے کہ نئے HWT پلانٹس کی منظوری سے ٹریٹمنٹ کی مجموعی صلاحیت بڑھے گی اور ایران کی منڈی میں کھویا ہوا حصہ جزوی طور پر واپس حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ایران جغرافیائی قربت کی وجہ سے ایک منفرد منڈی بھی ہے، کیونکہ آموں کی ترسیل بڑی حد تک زمینی راستے سے ممکن ہوتی ہے۔ اس کے برعکس خلیجی منڈیوں کے لیے فضائی اور سمندری راستے اور یورپی منڈیوں کے لیے زیادہ تر فضائی ترسیل استعمال ہوتی ہے۔ کم فاصلے کی وجہ سے ایران میں لاجسٹکس لاگت اور ترسیلی وقت کے بعض فوائد موجود ہیں، تاہم فائیٹو سینیٹری معیار پر سخت عمل درآمد بنیادی شرط رہے گا۔
پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی کھیپ میں فائیٹو سینیٹری خلاف ورزی یا interception ہوا تو پاکستان کے برآمدی کنٹرول نظام پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے نئے پلانٹس کی منظوری صرف گنجائش بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ مستقل نگرانی، ریکارڈنگ اور معیار برقرار رکھنے کا تقاضا بھی ہے۔ ایرانی ٹیم کے معائنے اور بعد کی منظوری سے ہی واضح ہوگا کہ کتنی نئی سہولیات برآمدی فہرست میں شامل ہوتی ہیں اور اس کا اگلے آم سیزن پر کتنا عملی اثر پڑتا ہے۔
