ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھول سکتا ہے، بشرطیکہ امریکا ایران پر فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی اٹھائے۔ یہ بات 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں ایرانی وفد بھی موجود ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کو باضابطہ طور پر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ مسئلے کا سفارتی حل چاہتا ہے اور پھر مذاکراتی عمل کے لیے ایک واضح ٹائم لائن پر اتفاق کیا جائے۔ عہدیدار کے مطابق نیویارک میں موجود ایرانی وفد کو امریکا کے ساتھ سفارت کاری بحال کرنے کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے۔
ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ صدر مسعود پزشکیان، جو منگل کو نیویارک روانہ ہوئے، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ تاہم ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کی تفصیلات ثالثوں کے ذریعے نیویارک میں زیرِ بحث آ سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی ایک تجویز 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران کی فوجی مرکزی کمان نے اتوار کو کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ امریکا خطے کے بعض ممالک کی حمایت سے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں تہران سخت ردعمل دے گا۔ یہ ایرانی مؤقف ہے اور اس کے بارے میں امریکا کی جانب سے اسی نوعیت کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا محدود آمدورفت کا تیل اور گیس کی عالمی رسد پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے جنرل اسمبلی کو سفارت کاری کی بحالی کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا، تاہم کسی باقاعدہ امریکی-ایرانی معاہدے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے حتمی فیصلے کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
