بغداد: عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکا کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے عراقی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے ایک مفاہمت حاصل کر لی ہے۔ رائٹرز کے مطابق فواد حسین نے الجزیرہ کو انٹرویو میں بتایا کہ عراقی خام تیل لے جانے والے جہاز عمان کے قریب ایک مخصوص بحری راستہ استعمال کر سکیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران سے متعلق جنگ اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کشیدگی نے خطے کی توانائی تجارت اور جہاز رانی کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ علاقائی تنازع اور تیل کی برآمدات میں خلل کے باعث عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ رقم عراقی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کا بیان کردہ تخمینہ ہے؛ رائٹرز کی رپورٹ میں اس پورے نقصان کی الگ آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔ عراق کی سرکاری آمدنی کا بڑا حصہ خام تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے خلیجی بحری راستوں میں رکاوٹ بغداد کی مالی پوزیشن پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق عراقی توانائی حکام کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر میں برآمدات میں نمایاں کمی کے بعد اکتوبر میں بحالی ہوئی۔ اکتوبر کے دوران عراق کی تیل برآمدات تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچیں، جبکہ ستمبر میں یہ سطح تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رہی تھی۔ اس بہتری کے باوجود خطے میں جہاز رانی کے خطرات، بیمہ لاگت اور ممکنہ فوجی کارروائیاں توانائی کی سپلائی کے لیے اہم غیر یقینی عوامل برقرار ہیں۔

فواد حسین کے بیان کے مطابق امریکا کے ساتھ مفاہمت کا مقصد عراقی برآمدی جہازوں کے لیے نسبتاً محفوظ گزرگاہ قائم رکھنا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کسی باضابطہ امریکی معاہدے کی مکمل دستاویز یا اس انتظام کی مدت اور تکنیکی شرائط جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے فی الحال اسے عراقی وزیر خارجہ کی جانب سے بیان کردہ سفارتی مفاہمت کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی شائع شدہ جامع دوطرفہ معاہدے کے طور پر۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی طویل رکاوٹ کے اثرات عراق تک محدود نہیں رہتے۔ عراق کے لیے فوری ترجیح اپنی برآمدی آمدنی کا تسلسل برقرار رکھنا ہے، جبکہ وسیع تر سطح پر خطے کے ممالک کشیدگی کم کرنے اور تجارتی جہاز رانی کو محفوظ رکھنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس مفاہمت کے عملی نتائج عراقی برآمدی حجم اور بحری آمدورفت کے تسلسل سے زیادہ واضح ہوں گے۔