اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے پائیدار آبی حکمرانی، پانی کی سلامتی اور محفوظ پانی سے متعلق حل پر چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق کانفرنس کا اہتمام کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ اِن دی ساؤتھ، کامسیٹس، نے کیا۔ پروگرام میں 12 ممالک سے 34 ماہرین شریک ہوئے اور تکنیکی سیشنز، مصنوعی ذہانت کی تربیت، پینل مباحثوں اور پاکستان کے اہم تحقیقی اداروں کے مطالعاتی دوروں کا انعقاد کیا گیا۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ رومینہ خورشید عالم نے پاکستان کے پانی سے متعلق مسائل میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر پانی کی قلت، سیلاب اور پانی کی حفاظت کو ایسے شعبے قرار دیا جہاں ڈیٹا، پیش گوئی اور جدید ڈیجیٹل طریقوں سے فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ کانفرنس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ اے آئی کو صرف تحقیق تک محدود رکھنے کے بجائے آبی وسائل کے انتظام اور خطرات کی نگرانی میں قابل عمل طریقوں سے استعمال کیا جائے۔

پانی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال میں موسمی اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ، سیلابی خطرے کی جلد نشاندہی، پانی کی طلب اور دستیابی کے رجحانات کا تخمینہ، آبی معیار کی نگرانی اور پالیسی سازوں کے لیے فیصلہ سازی کے نظام شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم سرکاری رپورٹ نے کسی مخصوص نئے قومی اے آئی نظام، اس کے بجٹ، خریداری یا ملک گیر نفاذ کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے کانفرنس کو مہارت کے تبادلے، تربیت اور ممکنہ حلوں پر بین الاقوامی علمی تعاون کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پانی کی دستیابی اور شدید موسمی واقعات دونوں سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث آبی انتظام میں بہتر ڈیٹا اور پیش گوئی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ چار روزہ پروگرام میں مختلف ممالک کے ماہرین کی شرکت سے پاکستان کے تحقیقی اداروں کو بین الاقوامی تجربات اور تکنیکی طریقوں سے رابطے کا موقع ملا۔ اگلا عملی مرحلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کانفرنس میں زیر بحث حلوں میں سے کون سے منصوبے تحقیق، پائلٹ پروگرام یا سرکاری آبی انتظام کے نظام میں منتقل ہوتے ہیں۔