کراچی: اسلام آباد میں چار اکتوبر کے مجوزہ پی ٹی آئی مارچ سے قبل سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے خدشات کے اثرات کراچی کی بندرگاہی سرگرمیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز شمالی علاقوں کی جانب مال لے جانے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ راستے میں ان کے ٹرک یا کنٹینرز تحویل میں لے کر دارالحکومت میں رکاوٹوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کراچی پورٹ پر درآمدی اور برآمدی کنٹینرز کی نقل و حرکت میں دباؤ پیدا ہوا ہے۔
اسلام آباد کراچی سے تقریباً 1,400 کلومیٹر دور ہے، تاہم ملک کی مرکزی تجارتی راہداریوں کے باہمی انحصار کی وجہ سے دارالحکومت میں سیاسی احتجاج کے لیے کیے جانے والے انتظامات کا اثر بندرگاہی لاجسٹکس پر بھی پڑ رہا ہے۔ ٹرک آپریٹرز کے لیے گاڑی یا کنٹینر کی عارضی ضبطی صرف وقت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایندھن، ڈرائیور کے اخراجات، مال کی بروقت ترسیل اور اگلے تجارتی چکر میں تاخیر کا مالی خطرہ بھی پیدا کرتی ہے۔
چار اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دارالحکومت اور اس کی جانب آنے والے راستوں پر سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ کنٹینرز پاکستان میں بڑے سیاسی احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنے کے لیے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں، اسی لیے مال بردار شعبے میں یہ خدشہ موجود ہے کہ تجارتی کنٹینرز اور گاڑیاں بھی انتظامی ضروریات کے لیے روکی جا سکتی ہیں۔
کراچی پورٹ ملکی بیرونی تجارت کا اہم مرکز ہے اور یہاں کنٹینرز کے جمع ہونے سے شپنگ لائنز، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹرز سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر مال بندرگاہ سے بروقت نہ نکلے تو ذخیرہ کرنے، ڈیمرج اور سپلائی چین کے دیگر اخراجات بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز پہلے ہی بلند ایندھن اور آپریشنل لاگت کی شکایت کر رہے ہیں، اس لیے گاڑیوں کے رکنے کا خطرہ ان کے کاروباری فیصلوں پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
یہ صورتحال سیاسی سرگرمی اور تجارتی لاجسٹکس کے درمیان تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ مارچ اور حکومتی انتظامات کی عملی شکل کے مطابق اثرات میں تبدیلی آ سکتی ہے، تاہم فی الحال مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ شمال کی طرف سفر سے گریز کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے باعث کراچی پورٹ سے کنٹینرز کی روانگی اور مال برداری کا معمول متاثر ہوا ہے۔
