اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے شیشہ کیفوں کے چلانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کے مطابق پابندی فوری طور پر نافذ کی گئی ہے اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔ یہ اقدام اسلام آباد ہائیکورٹ کی اس ہدایت کے بعد سامنے آیا جس میں انتظامیہ کو شیشہ کیفوں کے لیے جامع ضابطہ تیار کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پابندی ہر قسم کے شیشہ کیفے پر لاگو ہوگی، خواہ کسی کاروبار کے پاس پہلے سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ موجود ہو یا وہ اندرونی یا بیرونی جگہ پر سرگرمی چلا رہا ہو۔ انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے کیفے سیل کیے جا سکتے ہیں اور مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ معائنوں کی ذمہ داری دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیشہ کیفوں اور ان کے خلاف انتظامی کارروائی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے مشاہدہ کیا کہ مناسب ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ میں جامع قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت میں ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن اور اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے سامنے کاروباری مفادات اور شہری سطح پر ضابطہ کاری دونوں پہلو زیر بحث آئے۔ عدالت نے حتمی ریگولیٹری نظام بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عبوری طور پر مکمل پابندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
موجودہ حکم کا عملی مطلب یہ ہے کہ پہلے جاری کیے گئے این او سیز شیشہ کیفوں کو پابندی سے استثنا نہیں دیں گے۔ انتظامیہ نے نفاذ کے لیے روزانہ چیکنگ، سیلنگ اور قانونی کارروائی کا طریقہ بتایا ہے۔ دوسری جانب آئندہ ایک ماہ میں بننے والے قواعد یہ طے کریں گے کہ مستقبل میں ایسی سرگرمی کے لیے کن قانونی اور انتظامی شرائط کا اطلاق ہوگا۔
یہ پابندی ضلعی انتظامیہ کا نافذ کردہ اقدام ہے جو عدالت کی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے؛ مستقبل کی مستقل پالیسی کا انحصار تیار ہونے والے قواعد اور مزید عدالتی یا انتظامی فیصلوں پر ہوگا۔




