اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کے لیے بین الصوبائی روٹیشن متعارف کرانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) نے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کو صوبائی عدالتی نظام کے ساتھ تبادلے اور روٹیشن کے مواقع دینے کے دیرینہ مطالبے کو قبول کر لیا ہے اور متعلقہ طریقہ کار جلد متعارف کرانے کی توقع ہے۔

اسلام آباد کی وکلا برادری ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس نوعیت کے نظام کا مطالبہ کر رہی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے ضلعی ججوں کو بھی وہ مواقع میسر ہونے چاہییں جو صوبائی عدلیہ میں بین الصوبائی تبادلوں یا روٹیشن کی صورت میں دستیاب ہوتے ہیں۔ مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ایک یکساں ٹرانسفر اور روٹیشن پالیسی کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق این جے پی ایم سی نے مطالبہ اصولی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججوں کی صوبوں کے ساتھ روٹیشن کا راستہ کھولا ہے۔ اسلام آباد بار کونسل نے اس پیش رفت پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اسے ضلعی عدلیہ میں ادارہ جاتی توازن اور یکساں مواقع کی سمت قدم قرار دیا۔

تاہم اس فیصلے پر ماتحت عدلیہ کے بعض افسران نے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ ان خدشات کے مطابق بار بار تبادلوں سے ججوں پر نئے انتظامی اور پیشہ ورانہ دباؤ پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض عدالتی افسران نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ غیر مانوس بار ماحول میں ججوں کو وکلا کے دباؤ، احتجاج یا موافق فیصلوں کے مطالبات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ خدشات پالیسی کے عملی ڈھانچے میں عدالتی آزادی اور ججوں کے تحفظ کو اہم مسئلہ بنا دیتے ہیں۔

فی الحال رپورٹ میں روٹیشن کی مدت، سینیارٹی کے اصول، کس درجے کے جج پہلے شامل ہوں گے، صوبوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم یا رضاکارانہ و لازمی نوعیت کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اصولی منظوری کے باوجود پالیسی کا حقیقی اثر اس وقت واضح ہوگا جب این جے پی ایم سی یا متعلقہ عدالتی ادارے باضابطہ طریقہ کار جاری کریں گے۔

یہ پیش رفت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے صوبائی ہائی کورٹس سے تبادلوں کے بعد سامنے آئی ہے اور وفاقی دارالحکومت کے عدالتی نظام میں زیادہ وسیع ادارہ جاتی تبادلے کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔ وکلا اسے شفافیت اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے مثبت قدم سمجھ رہے ہیں، جبکہ عدالتی افسران کے تحفظات اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ روٹیشن نظام کو عدالتی آزادی متاثر کیے بغیر نافذ کرنا بنیادی چیلنج ہوگا۔