اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان کی پہلی اسمارٹ اور پیپر لیس ڈیجیٹل عدالت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کورٹ روم نمبر ایک میں قائم اس سہولت کا افتتاح کیا۔ تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، ہائیکورٹ کے دیگر ججوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
عدالتی حکام کے مطابق منصوبہ اسلام آباد ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے مکمل کیا، جبکہ ہائیکورٹ کے آئی ٹی شعبے کے انچارج عمر رشید ڈار اور ان کی ٹیم نے چیف جسٹس کی ہدایات کے تحت نظام تیار کیا۔ اسمارٹ کورٹ کا مقصد عدالتی کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے کاغذ پر انحصار کم کرنا اور کارروائی کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔ اس نظام کے عملی اثرات کا اندازہ اس کے روزمرہ عدالتی استعمال، ریکارڈ مینجمنٹ اور مقدمات کی کارروائی میں آنے والی تبدیلیوں سے ہوگا۔
اسی موقع پر عدالت کی عمارت میں مفت وائی فائی سہولت کا بھی افتتاح کیا گیا، جس سے وکلا اور سائلین انٹرنیٹ خدمات استعمال کر سکیں گے۔ ہائیکورٹ میں صحافیوں کے لیے میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے والے رپورٹرز کو کام کی جگہ اور متعلقہ سہولتیں میسر آ سکیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے میڈیا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر آزادی اظہار کی اہمیت کا ذکر کیا اور عدالتی کوریج میں میڈیا کے کردار پر بات کی۔
ڈیجیٹل عدالت کا قیام عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک عملی مثال ہے۔ تاہم اسے پورے ملک کی عدلیہ میں مکمل ڈیجیٹل منتقلی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ فی الحال یہ مخصوص سہولت اسلام آباد ہائیکورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں قائم کی گئی ہے۔ آئندہ اس ماڈل کی توسیع، ڈیجیٹل ریکارڈ کے تحفظ، رسائی، سائبر سکیورٹی اور عدالتی عمل میں وقت کی بچت جیسے پہلو اس اقدام کی کامیابی کے اہم پیمانے ہوں گے۔

