اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک میں انٹرنیٹ کے ذریعے ریموٹ کنٹرول سے چلائی جانے والی ایک تجرباتی گاڑی رابطہ منقطع ہونے کے بعد بے قابو ہوکر سڑک کنارے کھڑی پولیس وین سے ٹکرا گئی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں گاڑی کے اندر موجود صحافی کو ہینڈ بریک کھینچ کر اسے روکنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی شخص کے زخمی ہونے یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

صحافی محمد علیجہ نے ڈان کو بتایا کہ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے شوقین احسان ظفر نے انہیں اپنی خودکار ڈرائیونگ سے متعلق تجربے کی رپورٹنگ کے لیے مدعو کیا تھا۔ ان کے مطابق گاڑی ایک آپریٹر کے ذریعے انٹرنیٹ پر ریموٹ کنٹرول کی جارہی تھی، مگر رابطہ اچانک منقطع ہوا تو اسٹیئرنگ بے قابو ہوگیا۔ یہ وضاحت صحافی اور نظام سے وابستہ افراد کا بیان ہے؛ ڈان کی رپورٹ میں کسی سرکاری تکنیکی معائنے، پولیس تحقیق یا آزاد انجینئرنگ رپورٹ کا ذکر نہیں۔

ویڈیو میں گاڑی کا اسٹیئرنگ خود حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اسے مکمل خود مختار یا تجارتی سطح کی ڈرائیور لیس گاڑی کہنا درست نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اسے بیرونی آپریٹر انٹرنیٹ کنکشن سے چلا رہا تھا، اس لیے یہ واقعہ بنیادی طور پر ریموٹ کنٹرول، مواصلاتی تاخیر اور ناکامی کی صورت میں محفوظ متبادل نظام کے سوالات اٹھاتا ہے۔ کسی بھی تجرباتی گاڑی کے لیے کنکشن ٹوٹنے پر فوری بریک، کم رفتار، مقامی کنٹرول کی واپسی اور واضح حفاظتی حدود اہم ہوتے ہیں۔

محمد علیجہ نے بعد میں کہا کہ ویڈیو بنانے کا مقصد نوجوان موجد کو بدنام کرنا نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل جانچ اور حفاظتی یقین دہانی کے بغیر عوامی سڑک پر آزمانے کے خطرات کی طرف توجہ دلانا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ نظام ابھی مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ اعتماد نہیں، اور مصروف سڑک پر ایسا رابطہ منقطع ہونا کہیں زیادہ خطرناک نتائج پیدا کرسکتا تھا۔ یہ ان کا احتیاطی مؤقف ہے، کسی ریگولیٹری ادارے کا باضابطہ فیصلہ نہیں۔

واقعہ ایک کم ٹریفک والے اور حساس علاقے میں پیش آیا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تجربے کے لیے پیشگی اجازت لی گئی تھی یا نہیں، گاڑی کی رفتار کتنی تھی، کنکشن کس نوعیت کا تھا، یا پولیس نے کسی قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ ان امور پر قیاس آرائی مناسب نہیں؛ قابلِ تصدیق پیش رفت وہی ہوگی جو پولیس، ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ تکنیکی ادارہ باضابطہ طور پر جاری کرے۔

پاکستان میں خودکار اور ریموٹ ڈرائیونگ کے تجربات مقامی اختراع کی صلاحیت دکھاتے ہیں، لیکن عوامی راستوں پر آزمائش کے لیے محفوظ کنٹرول، ذمہ داری کے تعین اور حادثے کی صورت میں فوری ردعمل کے قواعد بھی ضروری ہیں۔ موجودہ واقعہ کو کامیاب خود مختار گاڑی یا کسی وسیع منصوبے کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی سرکاری تحقیق، وضاحت یا حفاظتی ضابطے سے متعلق نئی اطلاع کو الگ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک