اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں پر مکمل پابندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے واضح کیا کہ پابندی کا اطلاق ان شیشہ کیفوں پر بھی ہوگا جن کے پاس پہلے سے کسی نوعیت کا این او سی موجود ہے۔ اسی روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفوں سے متعلق باقاعدہ قواعد و ضوابط ایک ماہ کے اندر وضع کرنے کی ہدایت کی۔
عدالتی کارروائی اور انتظامی اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کے قانونی اور ریگولیٹری دائرہ کار پر سوالات زیر بحث رہے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انتظامیہ اس کاروباری سرگرمی کے بارے میں واضح ضابطہ سازی کرے، تاکہ نفاذ محض وقتی انتظامی فیصلوں کے بجائے متعین قواعد کے تحت ہو۔ دستیاب رپورٹ میں عدالت کی جانب سے ایک ماہ کی مدت مقرر کیے جانے کی تصدیق ہوتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا موقف پابندی کے دائرے کے حوالے سے غیر مبہم ہے: ڈپٹی کمشنر کے مطابق این او سی رکھنے والے کیفے بھی اس فیصلے سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مرحلے پر انتظامیہ نے اجازت ناموں کی سابقہ حیثیت کے باوجود عمومی پابندی کو ترجیح دی ہے۔ تاہم عدالت کی ہدایت کے بعد آئندہ ایک ماہ میں بننے والے قواعد اس شعبے کے لیے زیادہ واضح قانونی فریم ورک فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ امر اہم ہے کہ عدالتی حکم کو حتمی مستقل پالیسی کے مترادف نہ سمجھا جائے؛ رپورٹ کے مطابق عدالت نے انتظامیہ کو قواعد بنانے کا وقت دیا ہے، جبکہ فوری مکمل پابندی کا اعلان ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا۔ قواعد کی حتمی شکل، ان میں ممکنہ شرائط، لائسنسنگ یا نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں کیفے مالکان، صارفین اور نفاذ کرنے والے اداروں کے لیے اب اگلا اہم مرحلہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عدالتی مدت کے اندر ضابطہ سازی ہے۔ جب تک نئے قواعد جاری نہیں ہوتے، انتظامیہ کے اعلان کے مطابق شیشہ کیفوں پر مکمل پابندی نافذ رہے گی۔




