اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے قائم کردہ ’دی انوویشن ہائیو‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق افتتاحی تقریب میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر، ایس ٹی ای پی آئی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مظہر ایچ قریشی اور یو ایس ای ایف پی سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔
انوویشن ہائیو کو ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی گئی ہے جہاں ٹیکنالوجی، تعلیم، اختراع اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ سے متعلق سرگرمیاں ایک جگہ منظم کی جا سکیں۔ اس نوعیت کے مراکز کا مقصد نوجوانوں، ماہرین اور اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانا اور نئے خیالات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے تعاون کا ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، اسٹارٹ اپس، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے سرکاری سطح پر متعدد پروگرام جاری ہیں۔ تاہم انوویشن ہائیو کی افتتاحی تقریب کو ان تمام پروگراموں کے نتائج کا متبادل یا ان کی کامیابی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس مرکز کی عملی افادیت کا اندازہ اس کی آئندہ سرگرمیوں، شرکا کی رسائی، تربیتی پروگراموں اور ممکنہ شراکت داریوں سے ہوگا۔
تقریب میں امریکی سفارتی نمائندگی کی موجودگی پاکستان اور امریکا کے تعلیمی اور ٹیکنالوجی روابط کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ یو ایس ای ایف پی پہلے ہی تعلیمی تبادلوں اور اسکالرشپ پروگراموں سے منسلک ادارہ ہے، اور نیا مرکز اس کے دائرہ کار میں اختراع اور پیشہ ورانہ تعاون کے پہلو کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
دستیاب رپورٹ میں مرکز کے افتتاح کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن مستقبل میں پیدا ہونے والی ملازمتوں، سرمایہ کاری یا کاروباری منصوبوں کی کوئی حتمی تعداد نہیں دی گئی۔ اس لیے انوویشن ہائیو کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ اس کے پروگرام شروع ہونے اور قابل پیمائش نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

