روم: اٹلی کے وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کے بحری مشن کو رکن ممالک کی موجودہ شراکت کافی نہیں اور اتحادیوں کو زیادہ وسائل اور عملی تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب باب المندب اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی خطرات نے عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور یورپ و ایشیا کے درمیان تجارتی جہازوں کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ یہاں حملوں یا عدم تحفظ کی وجہ سے کئی شپنگ کمپنیاں متبادل طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے ایندھن، انشورنس اور مال برداری کی لاگت بڑھتی ہے۔

یورپی یونین نے تجارتی جہازوں کے تحفظ اور حملوں کے خطرات کم کرنے کے لیے بحری مشن قائم کر رکھا ہے، لیکن اطالوی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ تعیناتی اور رکن ممالک کی شراکت خطرے کی سطح کے مقابلے میں محدود ہے۔ کروسیٹو نے اتحادی ممالک سے مزید بحری اور عملی وسائل دینے کا مطالبہ کیا تاکہ اہم تجارتی راستے پر نگرانی اور تحفظ کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔

یہ مطالبہ خطے میں حوثی حملوں اور سعودی عرب سمیت علاقائی ممالک کی سکیورٹی تشویش کے وسیع تناظر میں سامنے آیا ہے۔ بحیرہ احمر میں مسلسل کشیدگی عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ اس راستے سے بڑی مقدار میں کنٹینر ٹریفک اور توانائی مصنوعات گزرتی ہیں۔

اطالوی وزیر دفاع کے بیان میں کسی نئے یکطرفہ فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یورپی یونین کے موجودہ مشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ آئندہ کسی توسیع کا انحصار یورپی شراکت داروں کے سیاسی فیصلوں، دستیاب بحری وسائل اور خطے میں خطرے کی سطح پر ہوگا۔