بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر ایک غیر پابند قرارداد منظور کر لی ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق قرارداد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش کی اور اس میں نئی دہلی کی مرکزی حکومت سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کیا جائے۔
قرارداد پر ووٹنگ سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے بعض ارکان نے قرارداد کو غیر آئینی اور قوم مخالف قرار دیا۔ یہ ان سیاسی نمائندوں کا مؤقف ہے؛ قرارداد کی قانونی حیثیت کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ آئینی طور پر پابند نہیں اور مرکزی حکومت پر فوری عمل کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی میں ریاستی درجہ بحال کرنے کو خطے کے عوام کا حق قرار دیا۔ قرارداد میں اس سے قبل 2000 اور 2024 میں منظور ہونے والی خودمختاری یا سیاسی حیثیت سے متعلق قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ موجودہ قرارداد سمیت یہ دستاویزات نئی دہلی کے لیے سیاسی مطالبات کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن ان کے نفاذ کے لیے مرکزی سطح پر قانونی اور آئینی اقدامات درکار ہوں گے۔
جموں و کشمیر کی انتظامی حیثیت اگست 2019 میں اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوئی تھی جب بھارتی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت خطے کو حاصل خصوصی خودمختاری ختم کی اور سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا۔ اس فیصلے کی حمایت اور مخالفت دونوں بھارت کے اندر اور خطے میں جاری رہی ہیں، اور ریاستی درجہ بحال کرنے کا سوال اس بحث کا اہم حصہ ہے۔
بھارتی حکومت ماضی میں مختلف مواقع پر یہ کہہ چکی ہے کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا، تاہم مکمل ٹائم لائن پر سیاسی اختلاف برقرار ہے۔ موجودہ اسمبلی قرارداد اسی مطالبے کو مقامی منتخب ایوان کے ذریعے دوبارہ سامنے لاتی ہے۔
اس قرارداد کا فوری عملی اثر محدود ہے، مگر سیاسی طور پر یہ منتخب علاقائی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان آئینی حیثیت پر جاری بحث کو نمایاں کرتی ہے۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ نئی دہلی اس مطالبے پر کیا ردعمل دیتی ہے اور ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے پارلیمانی یا انتظامی سطح پر کوئی باضابطہ قدم اٹھایا جاتا ہے یا نہیں۔
