جاپان میں ٹائیفون ڈوجوان کے گزرنے کے بعد کم از کم چار افراد کی ہلاکت اور 22 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ٹوکیو کے قریب ہزاروں گھروں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ جاپانی حکام کے مطابق 22 ستمبر 2026 کی صبح طوفان جاپانی ساحل سے دور بحرالکاہل کی جانب بڑھ گیا، جس کے بعد بیشتر شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق انتباہات کو ختم یا کم درجے پر کر دیا گیا۔

فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق چیبا پریفیکچر میں تین اور کاناگاوا میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ شدید بارش کے نتیجے میں آنے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد چھ افراد تاحال لاپتا تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔ حکام نے بتایا کہ چیبا میں منگل کی دوپہر تک 45 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم تھے، جبکہ 460 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا۔

ڈوجوان نے ٹوکیو اور اس کے گردونواح میں غیر معمولی مقدار میں بارش برسائی۔ سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق وسطی ٹوکیو سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب میں واقع اوشیما جزیرے پر 48 گھنٹوں کے دوران 832 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو وہاں پورے ستمبر کی اوسط بارش سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ٹوکیو کے ایڈوگاوا وارڈ میں 24 گھنٹوں میں 282.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو مقامی سطح پر نیا ریکارڈ بتایا گیا۔

طوفان کے باعث دارالحکومت میں ایک بڑے ویڈیو گیم تجارتی میلے کو بھی مقررہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ جاپان میں موسم گرما کے اختتام اور خزاں کے آغاز میں طاقتور ٹائیفون معمول کا حصہ ہیں، تاہم رواں سیزن کے دیگر طوفانوں نے ملک میں جاری بعض ایشین گیمز سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی شدید بارش کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ گرم فضا زیادہ نمی اپنے اندر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم کسی ایک مخصوص طوفان کے اثرات کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے الگ سائنسی تجزیہ درکار ہوتا ہے۔ جاپانی حکام کی فوری توجہ لاپتا افراد کی تلاش، بجلی کی بحالی اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے جائزے پر مرکوز ہے۔