اسلام آباد: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے ایندھن کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے بوجھ سے متعلق ریلیف کے دائرہ کار کا جائزہ لینے کے لیے چھ رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں مہنگے ایندھن کے کم آمدن اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ طبقوں پر اثرات پر گفتگو ہوئی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ کمیٹی موجودہ فیول ریلیف اسکیم کو وسعت دینے کے طریقوں پر غور کرے گی۔ اس کا مقصد ایسے صارفین یا طبقات تک معاونت پہنچانے کے امکانات دیکھنا ہے جو بلند پیٹرولیم قیمتوں اور لیوی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کی تشکیل کسی مخصوص نئی سبسڈی رقم یا فوری قیمت کمی کا حتمی اعلان نہیں، بلکہ سفارشات تیار کرنے کا ادارہ جاتی مرحلہ ہے۔

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں عالمی تیل نرخ، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت نے قیمتوں کے جائزے کا نظام بھی زیادہ بار بار کرنے کی طرف منتقل کیا ہے۔ ایسے ماحول میں عمومی قیمت کم کرنے اور مخصوص مستحق گروہوں کو ہدفی ریلیف دینے کے درمیان مالیاتی توازن حکومت کے لیے اہم مسئلہ ہے۔

جماعت اسلامی نے ایندھن پر عائد مالی بوجھ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت کو وفاقی محصولات اور بجٹ اہداف بھی مدنظر رکھنا ہوتے ہیں۔ مشترکہ کمیٹی کو اسی تناظر میں قابل عمل سفارشات دینا ہوں گی تاکہ کسی ممکنہ ریلیف کے مالی اثرات، مستحق افراد کی شناخت اور عملدرآمد کا طریقہ واضح کیا جا سکے۔

اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پیٹرولیم لیوی ختم یا کم کرنے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فریقین نے چھ رکنی کمیٹی کے ذریعے تجاویز مرتب کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کمیٹی کی سفارشات، حکومتی منظوری اور کسی باقاعدہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ریلیف کن صارفین کو، کس طریقے سے اور کتنی مقدار میں دیا جائے گا۔