لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج کو اگلے مرحلے میں لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر شٹر ڈاؤن اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے لاہور میں دھرنے کے آٹھویں روز پریس کانفرنس کی اور شہریوں سے رات کے جلسے میں شرکت کی اپیل بھی کی۔

حافظ نعیم کے مطابق کراچی، لاہور اور پشاور میں موجود دھرنے اپنی جگہ جاری رہیں گے، جبکہ دیگر شہروں میں احتجاجی کیمپ لگانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اور 12 ربیع الاول کی رات دھرنا گاہوں میں محافل میلاد اور سیرت کانفرنسیں ہوں گی۔ شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ کا اعلان ایک سیاسی جماعت کا آئندہ لائحۂ عمل ہے؛ خبر میں اس کے حتمی شیڈول، روٹ، انتظامی اجازت یا حکومت کے کسی تازہ باضابطہ جواب کی مکمل تفصیل شامل نہیں۔

پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے امیر نے مقامی اور درآمدی ڈیزل کی قیمتوں، پیٹرولیم مصنوعات کے منافع اور چینی کی درآمد سے متعلق حکومت، بیوروکریسی، ریفائنریوں اور شوگر مل مالکان پر متعدد الزامات عائد کیے۔ یہ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ مالی نتیجہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا بوجھ عوام، طلبہ، نوجوانوں اور کسانوں پر پڑ رہا ہے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا۔

حافظ نعیم نے اپنی جماعت کے احتجاج کو پرامن قرار دیا اور کہا کہ سنجیدہ حکومتی بات چیت کی صورت میں جماعت اسلامی بھی مذاکرات کرے گی۔ انہوں نے حکومتی نمائندوں سے منسوب اس مؤقف کو رد کیا کہ دھرنوں کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں حکومت یا متعلقہ وزارت کا تفصیلی جواب شامل نہیں، اس لیے دونوں پالیسی دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سوال پر عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت بھی بیان کی، تاہم اس خبر کا بنیادی نکتہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی حکمت عملی ہے۔ اگلی اہم پیش رفت شٹر ڈاؤن کی تاریخ، لانگ مارچ کے عملی انتظامات، ممکنہ مذاکرات یا سرکاری ردعمل ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک