کراچی: شہر میں گرم اور مرطوب موسم کے دوران درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جسے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کراچی میں ستمبر کا بلند ترین درجہ حرارت قرار دیا گیا ہے۔ ڈان کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا اور نمی نے محسوس ہونے والی گرمی میں مزید اضافہ کیا۔
کراچی کا ساحلی محل وقوع عام طور پر درجہ حرارت کو ملک کے اندرونی گرم علاقوں کے مقابلے میں محدود رکھتا ہے، لیکن سمندری ہوا میں کمی، ہوا کے رخ میں تبدیلی اور گرم خشکی کی ہوائیں بعض اوقات شہر میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھا دیتی ہیں۔ زیادہ نمی کے ساتھ ایسی گرمی انسانی جسم کے لیے زیادہ دباؤ کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ پسینے کے ذریعے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی قدرتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
41 ڈگری کا درجہ حرارت ایک مخصوص دن کی موسمی پیمائش ہے۔ اسے بذات خود طویل مدتی موسمیاتی تبدیلی کا حتمی ثبوت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ آب و ہوا کے رجحانات کئی برسوں اور دہائیوں کے اعداد و شمار سے جانچے جاتے ہیں۔ تاہم ستمبر میں ایک دہائی کی بلند ترین سطح شہر میں غیر معمولی گرمی کے واقعات کی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
شدید گرمی کے دوران شہریوں کے لیے پانی کی مناسب مقدار استعمال کرنا، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری دھوپ سے بچنا اور بچوں، بزرگوں اور باہر کام کرنے والے افراد پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔ بجلی کی بندش یا طویل لوڈشیڈنگ ایسے موسم میں گھروں اور کاروباری مقامات کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر جہاں ہوا کی مناسب آمدورفت یا ٹھنڈک کے متبادل ذرائع محدود ہوں۔
کراچی میں گرمی کے اس واقعے کے بعد آئندہ دنوں کے درجہ حرارت، سمندری ہواؤں اور نمی کی صورت حال اہم رہے گی۔ روزانہ موسم تیزی سے بدل سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئی اور ہیٹ ایڈوائزری پر توجہ دینی چاہیے۔
