کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب زیر تعمیر کراچی آئی ٹی پارک سے تقریباً 15 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے اور سالانہ 100 ملین ڈالر تک آئی سی ٹی برآمدات میں حصہ ملنے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت ای-پاکستان اور اڑان پاکستان فریم ورک کا حصہ ہے۔
منصوبے کی دستیاب تفصیلات کے مطابق آئی ٹی پارک کا مجموعی کورڈ ایریا تقریباً 1.18 ملین مربع فٹ ہوگا۔ اس میں 220 جدید دفاتر، 30 اسٹارٹ اپ اسپیسز اور ٹئیر-III ڈیٹا سینٹر شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام اسے کراچی میں ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور برآمدی آئی ٹی کاروبار کے لیے ایک علاقائی مرکز کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں حکومت نے منصوبے کے لیے تقریباً 3.75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ دستیاب سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں مختص رقم 3.745 ارب روپے کے قریب ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد تعمیراتی کام آگے بڑھانا اور بنیادی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کی تکمیل ہے۔
احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر منصوبے کی پیش رفت اجاگر کرتے ہوئے اسے ملک کے ڈیجیٹل منظرنامے کی تبدیلی سے جوڑا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ پارک میں آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی فرموں اور اسٹارٹ اپس کو جگہ دے کر برآمدی خدمات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
یہ منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے۔ جون میں قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی نے منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ اس لیے 15 ہزار ملازمتوں اور 100 ملین ڈالر سالانہ برآمدات کے اعداد موجودہ نتائج نہیں بلکہ منصوبے کے مکمل فعال ہونے کے بعد متوقع صلاحیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
کراچی پاکستان کی آئی ٹی اور کاروباری سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے، اور اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار تعمیراتی تکمیل، ڈیٹا سینٹر سمیت تکنیکی سہولیات کی بروقت دستیابی، کمپنیوں کی شمولیت اور عالمی آئی ٹی خدمات کی طلب پر ہوگا۔

