کراچی: شہر میں پولیو وائرس کے ایک نئے کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد 2026 کے دوران پاکستان میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد سات ہوگئی ہے۔ صحت حکام نے کیس کی تصدیق کے بعد متاثرہ علاقے میں نگرانی اور ویکسینیشن سرگرمیوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل جسمانی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں، تاہم بار بار دی جانے والی پولیو ویکسین بچوں کو وائرس سے مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔

کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں وائرس کی موجودگی انسداد پولیو پروگرام کے لیے خصوصی چیلنج پیدا کرتی ہے۔ آبادی کی مسلسل نقل و حرکت، بعض علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں کی محدود رسائی، بچوں کی خوراکیں رہ جانا اور سیوریج میں وائرس کی نگرانی جیسے عوامل مہم کی منصوبہ بندی میں اہم ہوتے ہیں۔ نئے کیس کے بعد متعلقہ حکام عام طور پر بچے کی ویکسینیشن تاریخ، علاقے میں وائرس کی گردش اور قریبی آبادیوں میں حفاظتی کوریج کا جائزہ لیتے ہیں۔

انسداد پولیو پروگرام ملک بھر میں گھر گھر مہمات کے ذریعے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین کے قطرے پلاتا ہے۔ ایک بچے کو متعدد مہمات میں بار بار قطرے پلانا محفوظ اور ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ وائرس کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کرنے کے لیے کئی خوراکیں درکار ہوسکتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہو۔

حکام کے لیے صرف کلینیکل کیسز ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی بھی اہم اشارہ ہوتی ہے۔ سیوریج سے لیے گئے نمونوں کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کن علاقوں میں وائرس خاموشی سے گردش کر رہا ہے، چاہے وہاں فالج کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہ آیا ہو۔ اسی معلومات کی بنیاد پر ہدفی ویکسینیشن مہمات ترتیب دی جاتی ہیں۔

2026 میں مجموعی تعداد سات تک پہنچنے کے باوجود ہر نیا کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وائرس کی منتقلی کی زنجیر ابھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹی۔ صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر مہم کے دوران اہل بچوں کو پولیو ویکسین ضرور دلوائیں اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری بھی مکمل رکھیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔