کراچی: کراچی پورٹ کا پورٹ لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ 343 تک پہنچ گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ کراچی بندرگاہ کے لیے اب تک کی بلند ترین سطح ہے اور اس سے عالمی لائنر شپنگ نیٹ ورک کے ساتھ بندرگاہ کے بڑھتے ہوئے رابطے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی سے متعلق عالمی اشاریے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ، یعنی UNCTAD، کے بحری نقل و حمل کے ڈیٹا کا حصہ ہیں۔ یہ اشاریے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں کہ کوئی ملک یا بندرگاہ باقاعدہ کنٹینر شپنگ سروسز، جہازوں کی آمد و رفت، دستیاب گنجائش اور بین الاقوامی بحری نیٹ ورک کے ساتھ کس حد تک منسلک ہے۔ UNCTAD نے جون 2026 میں دوسری سہ ماہی تک پورٹ کنیکٹیویٹی کا تازہ ڈیٹا جاری کیا تھا۔

ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ متعلقہ عالمی ڈیٹا تقریباً 900 بندرگاہوں کے رابطے کا تقابلی جائزہ لیتا ہے۔ کراچی پورٹ کا 343 کا اسکور اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے ہوتا ہے اور بہتر لائنر رابطہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے زیادہ باقاعدہ جہازی خدمات، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور سپلائی چین کے متبادل راستوں کی گنجائش بڑھا سکتا ہے۔ تاہم کنیکٹیویٹی انڈیکس بذات خود بندرگاہ پر سنبھالے گئے مجموعی کارگو یا تجارتی مالیت کا پیمانہ نہیں ہوتا، اس لیے اسے تجارتی حجم کے مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے تازہ آپریشنل اعداد و شمار بھی بندرگاہ پر جاری سرگرمی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ KPT کے مطابق 21 ستمبر تک گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں تقریباً 13.98 ملین ٹن درآمدی و برآمدی کارگو سنبھالا گیا، جبکہ اسی رپورٹ میں درآمدی اور برآمدی کنٹینرز کی قابل ذکر تعداد بھی درج ہے۔ یہ اعداد کنیکٹیویٹی انڈیکس سے الگ آپریشنل پیمائش ہیں، لیکن بندرگاہ کی تجارتی اہمیت کے پس منظر کو واضح کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر ایشیائی بندرگاہیں پورٹ کنیکٹیویٹی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ UNCTAD کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں شنگھائی، ننگبو-ژوشان، سنگاپور، بوسان اور چنگ ڈاؤ سب سے زیادہ منسلک بندرگاہوں میں شامل تھے۔ کراچی پورٹ کا نیا ریکارڈ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، مگر مسابقتی فائدہ برقرار رکھنے کے لیے بندرگاہی انفراسٹرکچر، کسٹمز کلیئرنس، اندرون ملک مال برداری اور جہازی سروسز کی مستقل بہتری بھی ضروری ہوگی۔

تازہ 343 کا اسکور ایک رابطہ جاتی اشاریہ ہے اور مستقبل میں عالمی شپنگ روٹس، لائنر کمپنیوں کی سروسز اور علاقائی تجارت میں تبدیلی کے ساتھ اوپر یا نیچے جا سکتا ہے۔ موجودہ دوسری سہ ماہی کے اعداد میں بہرحال کراچی پورٹ نے اپنی تاریخی بلند ترین سطح حاصل کی ہے۔