اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں فعال ہو سکتا ہے جب یمن کا تنازع سعودی حدود تک پھیل جائے یا کسی رکن ملک کے خلاف بلااشتعال جارحیت ہو۔ ان کے مطابق پاکستان معاہدے کی طے شدہ شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

خواجہ آصف نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک مشترکہ دفاعی، نہ کہ جارحانہ، انتظام ہے اور اس کی بنیادی شق کے تحت کسی ایک رکن کے خلاف حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر یمن میں جاری صورت حال کا پھیلاؤ سعودی عرب تک پہنچتا ہے تو معاہدے کے متعلقہ دفاعی تقاضے حرکت میں آ سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور اقتصادی و توانائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے اور بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب نے بعد میں یمن کے مختلف علاقوں میں جوابی حملے کیے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ دستیاب پاکستانی رپورٹنگ کے مطابق اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ معاہدے کی نوعیت دفاعی ہے اور رکن ممالک نے کسی دوسرے ملک کے خلاف ازخود جارحانہ کارروائی کے لیے یہ فریم ورک نہیں بنایا۔

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ انہیں حوثی حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی مخصوص فوری رابطے کا علم نہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی ذمہ داریوں کے بارے میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ علاقائی کشیدگی کم ہوگی اور تنازع مزید نہیں پھیلے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کر چکے ہیں، جبکہ دفتر خارجہ نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔ معاہدے کے ممکنہ عملی نفاذ سے متعلق اس مرحلے پر سامنے آنے والی بات وزیر دفاع کی تشریح اور پالیسی بیان ہے؛ کسی باقاعدہ فوجی تعیناتی یا عملی فعال ہونے کا اعلان رپورٹ نہیں ہوا۔