اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے خلاف کسی خطرے کی صورت میں ریاض کے ساتھ کھڑا ہوگا اور موجودہ دفاعی انتظام کے تحت اپنے دستیاب وسائل سعودی عرب کی معاونت کے لیے فراہم کرے گا۔ ان کے یہ بیانات سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور حالیہ سرحد پار حملوں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔

خواجہ آصف نے الجزیرہ سے گفتگو میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اسلام آباد انہیں مملکت کے خلاف جارحیت سمجھتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرہ سنجیدہ معاملہ ہے اور دفاعی تعاون کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ یہ حکومتی وزیر کا بیان ہے؛ کسی مخصوص فوجی کارروائی، تعیناتی یا آپریشن کا اعلان رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے سات اگست کو مکہ میں سہ فریقی دفاعی معاہدہ کیا تھا جسے بعد میں مکہ دفاعی اتحاد کا نام دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس انتظام میں رکن ممالک کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اسی فریم ورک کے تحت دستیاب پاکستانی وسائل سعودی عرب کی سلامتی کے لیے قابل رسائی ہوں گے۔

حوثی گروپ نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور سعودی تنصیبات و بحیرہ احمر میں سعودی روابط رکھنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ خطے میں ان واقعات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر دفاع نے ایران اور حوثیوں کے تعلق کے بارے میں کہا کہ تہران حوثیوں کو اپنا پراکسی تسلیم نہیں کرتا؛ یہ ان کا بیان ہے اور علاقائی فریق اس تعلق کی نوعیت پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔

خواجہ آصف نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرے گا، خصوصاً مقدس مقامات کے تحفظ کے معاملے میں۔ تازہ گفتگو میں انہوں نے سیاسی طور پر سخت الفاظ استعمال کیے، تاہم عملی سطح پر پاکستان کی کسی نئی فوجی کارروائی کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت وزیر دفاع کا پالیسی بیان اور دفاعی تعاون کے عزم کا اعادہ ہے۔