پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن شروع ہونے سے پہلے 10 لاکھ ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی فوری اجازت دی جائے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ موجودہ ذخائر اور آنے والی بڑی گنے کی فصل کے باعث مقامی منڈی میں رسد بڑھنے کا امکان ہے، جس سے کاشت کاروں کو پیداواری لاگت سے کم قیمت ملنے کا خطرہ ہے۔ یہ تنظیم کا مطالبہ اور تخمینہ ہے؛ حکومت کی جانب سے برآمد کی منظوری کی اطلاع نہیں دی گئی۔

کسان اتحاد کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 13 لاکھ ٹن اضافی چینی موجود ہے، جبکہ 35 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر گنے کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ تنظیم نے پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی اور کہا کہ 15 نومبر سے شروع ہونے والے کرشنگ سیزن سے پہلے ذخائر کم نہ کیے گئے تو ملوں کی خریداری صلاحیت اور گنے کی قیمتوں پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ ان اعداد کی آزادانہ تصدیق یا سرکاری اسٹاک مصالحت رپورٹ خبر میں شامل نہیں تھی۔

خالد محمود کھوکھر نے خدشہ ظاہر کیا کہ پالیسی میں تاخیر سے کسانوں کی آمدن کو 100 ارب روپے تک نقصان پہنچ سکتا ہے اور صورت حال 2017-18 کے شوگر بحران جیسی ہوسکتی ہے۔ یہ نقصان ابھی واقع شدہ یا سرکاری طور پر طے شدہ نہیں بلکہ کسان اتحاد کا پیشگی اندازہ ہے۔ حقیقی مالی اثر گنے کی حتمی پیداوار، ملوں کی خریداری، چینی کی مقامی قیمت، برآمدی نرخ، سرکاری پالیسی اور کرشنگ کے وقت پر منحصر ہوگا۔

پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کے حوالے سے بتایا گیا کہ گنا مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 0.8 فیصد اور زرعی قدر میں 3.2 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ مالی سال 2026 میں گنے کی پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن تک پہنچی اور اوسط پیداوار تقریباً 780 من فی ایکڑ رہی۔ کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، مگر فی ایکڑ صلاحیت، پانی کے استعمال، بیماریوں اور قیمتوں کے نظام میں ساختی مسائل بدستور موجود ہیں۔

تنظیم نے چینی کے شعبے کے لیے چار وسیع پالیسی مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں درآمد، برآمد، پیداوار اور قیمتوں کو انتظامی اجازتوں کے بجائے منڈی کے تحت چلانا؛ موجودہ صنعت کی کم از کم 75 فیصد پیداواری صلاحیت استعمال ہونے تک نئی شوگر ملوں کی اجازت نہ دینا؛ مستقبل میں نئی ملوں کے درمیان کم از کم 50 میل فاصلہ رکھنا؛ اور صوبائی شوگر قوانین ختم کرنا شامل ہیں۔ یہ تجاویز کسان اتحاد کی پالیسی پوزیشن ہیں، منظور شدہ حکومتی فیصلے نہیں۔

چینی کی برآمد کا فیصلہ صرف اضافی اسٹاک کے دعوے پر منحصر نہیں ہوتا۔ حکومت کو گھریلو طلب، قیمتوں، اسٹریٹجک ذخائر، آئندہ پیداوار، عالمی نرخ، ممکنہ سبسڈی یا ٹیکس اثر اور صارفین پر پڑنے والے بوجھ کا بھی جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ماضی میں برآمدی اجازتوں کے بعد مقامی قیمتوں سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے قابلِ جانچ اسٹاک ڈیٹا اور مرحلہ وار نگرانی اہم ہوں گے۔

کاشت کاروں کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ گنا جلد خراب ہونے والی فصل ہے اور ملوں کے کرشنگ شروع کرنے، وزن، ادائیگی اور خریداری قیمت میں تاخیر سے ان کی سودے بازی کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب صارفین کے لیے چینی کی دستیابی اور قیمت بھی براہ راست اہم ہے۔ کسی بھی فیصلے میں کسان، مل، برآمد کنندہ اور صارف کے مفادات کے درمیان توازن درکار ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پاکستان کسان اتحاد کی پریس کانفرنس، 10 لاکھ ٹن برآمدی اجازت کا مطالبہ اور چار اصلاحاتی تجاویز ہیں۔ حکومت نے نہ مطلوبہ مقدار کی برآمد منظور کی ہے اور نہ ہی چینی کے شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کا اعلان کیا ہے؛ حتمی فیصلہ متعلقہ وزارتوں، اسٹاک جانچ اور مجاز اقتصادی فورم کی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔