کراچی: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی رسائی بڑھانے کے لیے اہم ریکارڈ کو آن لائن منتقل کرنے کا عمل آگے بڑھایا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق کے ایم سی کی ویب سائٹ پر 733 ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی دستیاب کر دی گئی ہیں، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 59 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد شہریوں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بلدیاتی منصوبوں اور انتظامی ریکارڈ تک زیادہ آسان رسائی دینا ہے۔ آن لائن معلومات سے منصوبوں کی تعداد، مالی حجم اور شہری ترقی کے کاموں کے بارے میں عوامی نگرانی کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جبکہ کاغذی ریکارڈ پر انحصار میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں بلدیاتی اخراجات، ترقیاتی اسکیموں اور ادارہ جاتی فیصلوں کے بارے میں معلومات کی دستیابی طویل عرصے سے عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ اس خلا کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے، تاہم شفافیت کی عملی افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ ویب سائٹ پر معلومات کتنی مکمل، تازہ اور قابل تلاش رہتی ہیں اور منصوبوں کی پیش رفت و اخراجات کو کس تسلسل سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

میئر کی جانب سے 733 منصوبوں اور تقریباً 59 ارب روپے کے حجم کا ذکر اس پروگرام کے بڑے پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ آن لائن ریکارڈ شہریوں کو یہ جانچنے کا موقع دے سکتا ہے کہ ان کے علاقوں میں کون سی اسکیمیں منظور یا زیر عمل ہیں اور بلدیاتی وسائل کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل شفافیت صرف ریکارڈ شائع کرنے تک محدود نہیں رہتی؛ مؤثر نظام کے لیے واضح ڈیٹا، بروقت اپ ڈیٹس، قابل فہم مالی تفصیلات اور شکایات یا سوالات کے جواب کا طریقہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ کے ایم سی کے اس اقدام کی کامیابی کا اصل پیمانہ آنے والے مہینوں میں ریکارڈ کی مسلسل دستیابی اور شہریوں کے لیے اس کے عملی استعمال سے سامنے آئے گا۔

ڈان کی 10 ستمبر کی رپورٹ میں میئر مرتضیٰ وہاب کے حوالے سے اس پیش رفت کو کراچی کی بلدیاتی انتظامیہ میں شفافیت بڑھانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔