وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل میری کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو جاری تفصیلات کے مطابق مجوزہ منصوبے کا مقصد سمندری فارمنگ، آبی حیات کی افزائش، ہیچری، تحقیق، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین اور تجارتی خدمات کو ایک مربوط ترقیاتی فریم ورک میں لانا ہے۔
تصوری ماسٹر پلان میں اسٹیٹ کو چار بنیادی زونز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں 30 ایکڑ کا میری کلچر زون، 20 ایکڑ کا ہیچری زون، 20 ایکڑ کا ایکوا ریسرچ پارک اور 20 ایکڑ کا کمرشل ڈسٹرکٹ شامل ہیں۔ باقی رقبہ سڑکوں، بنیادی ڈھانچے، سبز مقامات اور معاون سہولیات کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ منصوبہ ابھی تصور اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے مکمل شدہ سرمایہ کاری یا فعال صنعتی اسٹیٹ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
وزارت کے مطابق ہیچری زون جدید آبی بیج اور افزائشی مواد کی پیداوار میں مدد دے گا، جبکہ ریسرچ پارک تحقیق، تربیت اور نئی ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے سہولیات فراہم کرے گا۔ مجوزہ اسٹیٹ میں سمندری خوراک کی پروسیسنگ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر بھی شامل ہوگا، جس کا مقصد پیداوار کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرنا اور برآمدی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
منصوبے کے بنیادی ڈھانچے میں اندرونی سڑکیں، بجلی اور قابل تجدید توانائی کی سہولیات، پانی کی فراہمی اور ٹریٹمنٹ، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اسمارٹ اسٹیٹ مینجمنٹ، سکیورٹی و نگرانی اور گرین بیلٹس شامل کرنے کی تجویز ہے۔ وزارت بحری امور کے مطابق جدید سمندری انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پاکستان کی بلیو اکانومی میں نئی سرمایہ کاری، روزگار اور ساحلی آبادیوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
میری کلچر سے مراد ساحلی یا سمندری ماحول میں مچھلی، جھینگے، سیپیوں، مسلز یا سمندری نباتات جیسی انواع کی منظم افزائش اور کاشت ہے۔ پاکستان میں اس شعبے کی ترقی کے لیے پانی کے معیار، حیاتیاتی تحفظ، بیماریوں کے کنٹرول، ماحولیاتی اثرات اور برآمدی معیار کی نگرانی اہم ہوگی۔ مجوزہ کورنگی اسٹیٹ کا حتمی سرمایہ، تعمیراتی ٹائم لائن اور نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

