پشاور: خیبر پختونخوا کابینہ نے مجوزہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے، جو 2017 کے موجودہ قانون کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کابینہ کا 59واں اجلاس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہوا، جہاں ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور کابینہ ارکان کی تجاویز پر غور کے بعد ترمیم شدہ مسودہ منظور کیا گیا۔ صوبائی حکومت کے مطابق اگلا مرحلہ اس مسودے کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون سازی کے لیے پیش کرنا ہے۔

مجوزہ قانون میں پولیس کی پالیسی سازی اور روزمرہ آپریشنل امور کو الگ ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے چلانے کا تصور شامل ہے۔ دستیاب مسودے اور صوبائی بریفنگ کے مطابق پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ صوبائی پولیس افسر کی سربراہی میں کام کرے گا۔ پولیس سربراہ کو سالانہ پولیسنگ پلان بھی پالیسی بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق نئے قانون میں تقرریوں، تبادلوں، تحقیقات اور تنازعات کے حل کے نظام سے متعلق تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کو بعض حالات میں وفاقی پولیس سروس کے افسران، بشمول انسپکٹر جنرل، کی خدمات واپس کرنے کی سفارش یا کارروائی کا اختیار دینے کی دفعات بھی زیر بحث ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد پولیس کو زیادہ جواب دہ، پیشہ ور اور مؤثر بنانا ہے۔

مجوزہ قانون پر وفاقی سطح سے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس کمانڈ ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلیاں آئینی اور پولیس سروس آف پاکستان کے قواعد سے متعلق سوالات پیدا کر سکتی ہیں اور ان کا انسداد دہشت گردی و امن و امان کی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے؛ قانون کی حتمی آئینی حیثیت کسی عدالتی یا پارلیمانی جانچ کے بغیر طے شدہ نتیجہ نہیں ہے۔

اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی بعض دفعات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مسودہ پولیس حکام سے مشاورت اور کابینہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کے بعد تیار کیا گیا۔ چونکہ مسودہ ابھی صوبائی اسمبلی سے منظور ہونا باقی ہے، اس لیے رپورٹ میں اسے نافذ شدہ قانون کے بجائے کابینہ سے منظور شدہ مجوزہ قانون کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔