پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے بزرگ شہریوں کے لیے مجوزہ ”احساس بزرگ کارڈ“ کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے اہل شہری بس ریپڈ ٹرانزٹ یعنی بی آر ٹی سروس میں مفت سفر کر سکیں گے۔ یہ منظوری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جہاں متعلقہ محکموں نے منصوبے کی لاگت، اہلیت اور تصدیقی طریقہ کار پر بریفنگ دی۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق پروگرام کی سالانہ تخمینی لاگت تقریباً 935 ملین روپے، یعنی 93 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوگی اور یہ خرچ صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ اہل بزرگ شہریوں کی شناخت اور عمر کی تصدیق نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کے ریکارڈ کے ذریعے کی جائے گی۔ تصدیق مکمل ہونے کے بعد احساس بزرگ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ حکام نے کارڈ کے اجرا کے نظام کو تقریباً پانچ ماہ میں فعال کرنے کا ہدف بتایا ہے۔

منصوبے کی موجودہ حیثیت اصولی منظوری کی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر مکمل طور پر نافذ شدہ مفت سفری سہولت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ عملی آغاز کے لیے رجسٹریشن، نادرا تصدیق، کارڈ کی تیاری اور بی آر ٹی کے کرایہ نظام کے ساتھ تکنیکی انضمام جیسے مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔ حکومت کی جانب سے حتمی آغاز کی تاریخ سامنے آنے کے بعد ہی تمام اہل شہری اس سہولت سے باقاعدہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔

خیبر پختونخوا میں بی آر ٹی پشاور شہری ٹرانسپورٹ کا مرکزی نظام ہے اور بزرگ شہریوں کے لیے کرایہ ختم کرنے کا فیصلہ سماجی تحفظ اور نقل و حرکت کی سہولت کو جوڑتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عمر رسیدہ افراد کے لیے ہسپتالوں، سرکاری دفاتر، بازاروں اور دیگر ضروری مقامات تک رسائی آسان بنانا اور روزمرہ آمدورفت کے اخراجات کم کرنا ہے۔

منصوبے کی کامیابی کا انحصار مستحق افراد کی درست شناخت، مالی وسائل کی مسلسل فراہمی اور کرایہ وصولی کے موجودہ نظام میں شفاف اندراج پر ہوگا۔ چونکہ حکومت نے سالانہ لاگت کا ابتدائی تخمینہ بھی پیش کردیا ہے، اس لیے بجٹ پر اس کے اثرات کی نگرانی بھی اہم ہوگی۔ فی الحال سرکاری فیصلہ اس اسکیم کو آگے بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ مکمل نفاذ کے انتظامی اور تکنیکی مراحل آئندہ مہینوں میں طے کیے جائیں گے۔