خیبر پختونخوا حکومت نے امتحانی نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں طلبہ کو اپنی جوابی کاپیاں دیکھنے کی سہولت دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق محکمہ تعلیم نے بورڈز سے کہا ہے کہ وہ ’شو آف پیپر‘ پریکٹس کے لیے فوری نوٹیفکیشن جاری کریں اور درخواست دینے والے طلبہ کو جائزے کا موقع دیں۔
اس نظام کے تحت طالب علم نتیجہ آنے کے بعد مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اپنی جوابی کاپی دیکھنے کے لیے درخواست دے سکے گا۔ محکمہ تعلیم نے بورڈز کو درخواستیں بلاامتیاز قبول کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹ میں فیس، درخواست کی آخری تاریخ، اپیل کے مراحل یا ہر بورڈ کے عملی شیڈول کی تفصیل نہیں دی گئی؛ یہ نکات متعلقہ بورڈ کے نوٹیفکیشن میں واضح ہوں گے۔
صوبائی محکمہ تعلیم نے کوہاٹ بورڈ کے ماڈل کو پورے صوبے میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق جوابی کاپی دیکھنے سے امتحانی عمل میں شفافیت اور احتساب بہتر ہوگا اور طلبہ کا نتائج پر اعتماد بڑھے گا۔ سہولت کا مطلب خودکار طور پر نمبر تبدیل ہونا نہیں؛ کسی ممکنہ تصحیح یا نظرثانی کے لیے بورڈ کے الگ قواعد لاگو ہوں گے۔
تعلیمی بورڈز کے لیے عملی چیلنج درخواستوں کی بڑی تعداد، ریکارڈ کی محفوظ فراہمی اور مقررہ وقت میں جائزہ مکمل کرنا ہوگا۔ واضح شناختی تصدیق اور جواب ناموں کی حفاظت ضروری ہوگی تاکہ کسی طالب علم کو دوسرے امیدوار کا ریکارڈ نہ ملے۔ رپورٹ میں ان انتظامات کا مکمل طریقۂ کار شامل نہیں، اس لیے ان کے بارے میں کوئی غیر مصدقہ شرط بیان نہیں کی جا رہی۔
طلبہ اور والدین کو متعلقہ بورڈ کی ویب سائٹ یا دفتر سے جاری اصل نوٹیفکیشن کا انتظار کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر سرکاری فارم، فیس یا آخری تاریخ کو درست نہ سمجھا جائے۔ سہولت کے نفاذ کی رفتار مختلف بورڈز میں مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ ہر ادارے کو اپنا انتظامی طریقہ جاری کرنا ہوگا۔
اردو ہیڈ لائنز لاہور یا سندھ کے بورڈز سے متعلق اس خبر کو خیبر پختونخوا کی ہدایت کے ساتھ خلط نہیں کر رہا۔ یہ اقدام صرف خیبر پختونخوا کے صوبائی تعلیمی بورڈز کے لیے رپورٹ ہوا ہے۔ بورڈ وار نوٹیفکیشن، درخواست فارم یا فیس سامنے آنے پر اسی ریکارڈ کو تازہ کیا جائے گا۔




