کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو شدید فروخت کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 3 ہزار 78 پوائنٹس یا 1.79 فیصد گر کر 168 ہزار 865 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس ایک موقع پر تقریباً 3 ہزار 471 پوائنٹس تک نیچے گیا اور 170 ہزار کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے آ گیا۔ مارکیٹ مبصرین نے عالمی تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکا ایران کشیدگی کو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی بڑی وجوہات میں شمار کیا۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے مہنگائی، درآمدی بل اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن سے متعلق خدشات دوبارہ نمایاں ہوئے۔ خلیج میں جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل پر بڑھتے خطرات نے عالمی سپلائی میں خلل کے امکانات کو بھی بڑھایا ہے، جس کا اثر مقامی ایکویٹی مارکیٹ کے جذبات پر پڑا۔

مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق مجموعی کاروباری حجم تقریباً 62 کروڑ 90 لاکھ شیئرز رہا اور حصص کی مالیت تقریباً 27 ارب روپے تھی۔ ریڈی مارکیٹ میں 499 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 406 کی قیمتیں کم ہوئیں، 58 میں اضافہ ہوا اور 35 بغیر تبدیلی بند ہوئے۔ یہ وسیع منفی مارکیٹ بریڈتھ ظاہر کرتی ہے کہ فروخت چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق میزان بینک، فوجی فرٹیلائزر، پاکستان پیٹرولیم، او جی ڈی سی اور حب پاور ان کمپنیوں میں شامل تھیں جنہوں نے انڈیکس پر نمایاں منفی اثر ڈالا۔ مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت نے بھی دباؤ بڑھایا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی خالص فروخت رپورٹ ہوئی۔

موجودہ گراوٹ ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی تیل اور گیس کی قیمتیں دوبارہ تیزی دکھا رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معمول سے بہت کم ہونے کی رپورٹس نے توانائی سپلائی کے خدشات بڑھائے ہیں۔ پاکستان کے لیے بلند تیل قیمتیں درآمدی ادائیگیوں، روپے، افراط زر اور شرح سود کی توقعات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اسی لیے مقامی مارکیٹ ان خبروں پر حساس ردعمل دکھا رہی ہے۔

تاہم ایک دن کی بڑی گراوٹ مستقبل کی سمت کی ضمانت نہیں۔ مارکیٹ کی اگلی حرکت عالمی تیل قیمتوں، امریکا ایران کشیدگی، ملکی شرح سود کی توقعات اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے رویے سے متاثر ہوگی۔ اگر توانائی منڈی اور علاقائی سکیورٹی میں استحکام نہ آیا تو قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان مارکیٹ تجزیہ کاروں نے ظاہر کیا ہے۔