لاہور کے ہربنس پورہ علاقے میں بدھ کی رات ایک سہ منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہو گئی۔ ابتدائی سرکاری اور خبر رساں اطلاعات میں نو اموات بتائی گئیں، مگر ملبہ ہٹنے کے ساتھ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد 11 اور زخمیوں کی تعداد چھ ہونے کی تصدیق کی۔

حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد نے ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ موقع پر پہنچیں۔ بھاری مشینری بھی استعمال کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کے ترجمان کے مطابق ایک کم سن بچی کی میت ملنے کے بعد امدادی کارروائی مکمل کر دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ عمارت میں تین بھائی اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے تھے اور ان کی بہن اپنے بچوں کے ساتھ سالگرہ کی تقریب کے لیے آئی ہوئی تھی۔ عمارت اوپر سے نیچے منزل بہ منزل گری۔ اس کے منہدم ہونے کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا۔

عینی شاہدین اور ابتدائی رپورٹس نے مسلسل مون سون بارش کا ذکر کیا، مگر بارش، عمارت کی ساخت، دیکھ بھال یا تعمیراتی معیار میں سے کس عامل نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، یہ تکنیکی تحقیقات کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے کسی ایک وجہ کو حتمی طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب ملک کے مختلف حصوں میں چھتیں اور مکانات گرنے، ڈوبنے اور بجلی لگنے کے واقعات سے مون سون کی ہلاکتیں بڑھ رہی تھیں۔ پرانی یا پہلے سے کمزور عمارتیں مسلسل نمی اور بارش میں زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں، مگر ہر عمارت کا خطرہ الگ معائنے سے طے ہوتا ہے۔

ہلاکتوں کے اعداد امدادی کارروائی کے دوران نو سے بڑھ کر 11 ہوئے، اس لیے رپورٹ میں لاہور انتظامیہ کا بعد کا مصدقہ عدد استعمال کیا گیا ہے۔ امدادی مرحلہ ختم ہو چکا ہے؛ اب سرکاری انکوائری سے عمارت گرنے کی وجہ اور کسی ممکنہ انتظامی یا تعمیراتی غفلت کا تعین ہونا باقی ہے۔