لاہور: لاہور پولیس نے چوری شدہ موبائل فونز کے انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈینٹیٹی یعنی آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کرنے والے افراد اور ایسے فون یا ان کے پرزوں کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس حکام نے موبائل چوری اور جیب تراشی کی روک تھام کے لیے گشت، نگرانی اور سادہ لباس میں ڈیکوائے کارروائیاں بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر بلال صدیق کمیانہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جیب تراشی اور موبائل فون چوری میں ملوث افراد کے خلاف گرفتاریوں اور تفتیشی کارروائی کو تیز کیا جائے۔ مصروف بازاروں، عوامی اجتماعات، ٹرانسپورٹ مراکز اور دیگر رش والے مقامات پر نگرانی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ برآمد ہونے والے چوری شدہ موبائل فونز کا تکنیکی تجزیہ کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے آئی ایم ای آئی نمبرز میں ردوبدل کیا گیا یا نہیں اور اگر کیا گیا تو اس عمل میں کون سے افراد یا دکانیں ملوث تھیں۔ آئی ایم ای آئی ہر موبائل ڈیوائس کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والا منفرد نمبر ہے اور اس میں غیر قانونی تبدیلی چوری شدہ فون کی اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

سی سی پی او نے موبائل فون کے لین دین کے دوران خریدار اور فروخت کنندہ کی شناختی دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق کی ہدایت بھی کی۔ اس اقدام کا مقصد سیکنڈ ہینڈ موبائل مارکیٹ میں چوری شدہ ڈیوائسز کی خرید و فروخت کو مشکل بنانا اور فون کے سابقہ مالک یا لین دین کا قابل سراغ ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔

پولیس حکام نے چوری شدہ فونز اور ان کے پرزوں کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ موبائل فون کو کھول کر اس کے پرزے الگ فروخت کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے برآمدگی اور شناخت کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے کارروائی صرف فون چوروں تک محدود رکھنے کے بجائے ممکنہ خریداری اور تبدیلی کے نیٹ ورک تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کریک ڈاؤن کی کامیابی کا انحصار پولیس تفتیش، موبائل مارکیٹ کے ریکارڈ، تکنیکی فرانزک اور متعلقہ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیٹا کے قانونی استعمال پر ہوگا۔ رپورٹ میں گرفتاریوں کا کوئی نیا مجموعی عدد یا مخصوص دکانوں کی فہرست جاری نہیں کی گئی، اس لیے موجودہ پیش رفت بنیادی طور پر پولیس کی نئی آپریشنل ہدایات اور نفاذ کے منصوبے سے متعلق ہے۔

شہریوں کے لیے اس پالیسی کا عملی اثر یہ ہو سکتا ہے کہ استعمال شدہ موبائل خریدتے یا فروخت کرتے وقت شناختی ریکارڈ اور ڈیوائس کی قانونی ملکیت کی جانچ زیادہ اہم ہو جائے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس کا ہدف چوری شدہ فونز کی مارکیٹ اور آئی ایم ای آئی میں غیر قانونی ردوبدل کے ذریعے شناخت چھپانے کے طریقوں کو محدود کرنا ہے۔