اسلام آباد: طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی سے جڑے ویزا فراڈ کیس کے مرکزی ملزم کی ہلاکت کے بارے میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی مبینہ ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ یہ واقعہ پولیس کا بیان ہے اور اس کے حالات سے متعلق قانونی اور تفتیشی جانچ ابھی جاری رہ سکتی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق زیر حراست مرکزی ملزم نے ایک دوسرے مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں اور پولیس ٹیم اسے اس شخص کی تلاش کے لیے لے جا رہی تھی۔ رامنا تھانے کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے مبینہ طور پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کی تاکہ زیر حراست ملزم کو چھڑایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں مرکزی ملزم زخمی ہوا جبکہ اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے محفوظ رہے۔ زخمی شخص کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔
کیس کا تعلق 20 سالہ لائبہ اعجاز سے ہے، جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔ تحقیقات کے مطابق ان کے خاندان نے بیرون ملک تعلیم اور دیگر انتظامات کے لیے تقریباً 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے اور ملزم پر جعلی سفری دستاویزات دینے سمیت دھوکا دہی کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ تمام نکات تحقیقاتی اداروں کے الزامات ہیں اور عدالتی فیصلے سے قبل انہیں ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لائبہ کی موت کے بعد رامنا تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بھی ان کے ماموں کی شکایت پر دھوکا دہی، معاونت اور امیگریشن سے متعلق مبینہ فراڈ کی دفعات کے تحت الگ مقدمہ درج کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی معاملے کا نوٹس لے کر ملزم کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد مرکزی ملزم اور دو خواتین کو الگ الگ کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس نے کہا ہے کہ فائرنگ کے بعد دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ مرکزی ملزم کی ہلاکت کے باوجود اصل ویزا فراڈ، مالی لین دین، ممکنہ معاونین اور طالبہ کی موت سے متعلق مقدمات کے دیگر پہلو اپنی قانونی حیثیت کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔

