ریگا: لٹویا میں ہفتے کے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی، ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ، روس کے ساتھ علاقائی کشیدگی اور ڈرون دراندازی کے حالیہ واقعات نے قومی سلامتی کو انتخابی بحث کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔ بالٹک ریاست نیٹو اور یورپی یونین کی رکن ہے اور روس کے ساتھ سرحد رکھنے کے باعث خطے کی سکیورٹی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران دفاعی تیاری، نیٹو کے ساتھ تعاون، یوکرین کی حمایت اور سرحدی نگرانی اہم مسائل رہے۔ حالیہ ڈرون واقعات نے اس بحث کو مزید تیز کیا کہ لٹویا کو فضائی دفاع اور نگرانی کے نظام میں کتنی اضافی سرمایہ کاری درکار ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے سکیورٹی کے ساتھ زندگی گزارنے کی لاگت اور عوامی خدمات جیسے داخلی معاشی مسائل پر بھی مہم چلائی۔
وزیراعظم اینڈرس کولبرگ کی مرکز پسند اور یوکرین نواز یونائیٹڈ لسٹ پارٹی انتخاب میں نمایاں قوت کے طور پر میدان میں اتری۔ ووٹنگ کے بعد جاری ہونے والے ایگزٹ پولز رائے دہندگان کے فوری رجحان کی پیمائش ہوتے ہیں، سرکاری نتیجہ نہیں؛ حتمی نشستوں کا تعین الیکشن حکام کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔
لٹویا نے روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد دفاعی اخراجات اور نیٹو تعاون بڑھایا ہے۔ بالٹک خطے میں فضائی حدود، سرحدی سکیورٹی اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ پر توجہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انتخابی نتیجہ اس بات پر اثر ڈالے گا کہ اگلی حکومت دفاعی اخراجات، یوکرین کی مدد اور یورپی یونین کے اندر علاقائی پالیسی پر کس رفتار سے کام کرتی ہے۔
یہ انتخاب صرف خارجہ پالیسی کا ریفرنڈم نہیں؛ ووٹرز مہنگائی، اجرتوں، صحت، تعلیم اور حکومتی کارکردگی جیسے روزمرہ مسائل کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ حتمی سیاسی انتظام ممکنہ اتحادی مذاکرات پر منحصر ہوگا، کیونکہ پارلیمانی نظام میں حکومت سازی کے لیے جماعتوں کو اکثر اتحاد تشکیل دینا پڑتا ہے۔

