اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، ڈسکوز، کو صارفین پر من مانے ڈیٹیکشن بل عائد کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری، سست میٹر یا تکنیکی خرابی کے نام پر اضافی وصولی صرف مقررہ قواعد اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ڈیٹیکشن بل عام طور پر اس صورت میں جاری کیے جاتے ہیں جب کمپنی یہ مؤقف اختیار کرے کہ کسی مدت میں استعمال شدہ بجلی کا مکمل اندراج یا بلنگ نہیں ہوئی۔

بجلی صارفین کی شکایات میں اضافی اور غیر متوقع بل طویل عرصے سے نمایاں مسئلہ رہے ہیں۔ ڈیٹیکشن بل کی رقم بعض اوقات معمول کے ماہانہ بل سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے غلط تشخیص کی صورت میں گھریلو یا کاروباری صارف کو فوری مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب بجلی چوری اور میٹر میں مداخلت تقسیم کار کمپنیوں کے مالی نقصانات اور گردشی قرض میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے۔

وزیر توانائی کی ہدایت کا بنیادی نکتہ دونوں مسائل کے درمیان توازن ہے: چوری یا غیر بل شدہ استعمال کی جائز وصولی ضرور ہو، لیکن ایماندار صارف کو ثبوت کے بغیر جرمانہ یا اضافی بل نہ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے میٹر کی جانچ، تصاویر یا تکنیکی ریکارڈ، استعمال کی سابقہ تاریخ اور متعلقہ ضابطوں کی پابندی اہم ہوسکتی ہے۔ صارف کو بل کی بنیاد سمجھنے اور اعتراض کی صورت میں شکایت یا اپیل کا قابل رسائی راستہ بھی درکار ہوتا ہے۔

پاکستان کا بجلی شعبہ بلند لائن لاسز، وصولیوں میں کمی، چوری اور مہنگی پیداوار سمیت متعدد مالی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے اور نقصانات کم کرنے کے لیے انتظامی اور ساختی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ تاہم محصولات بڑھانے کی کوشش میں غلط بلنگ صارف اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور شکایات و قانونی تنازعات میں اضافہ کرسکتی ہے۔

ہدایت کے عملی اثر کا انحصار تقسیم کار کمپنیوں کے اندر نگرانی، شکایات کے حل اور ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب پر ہوگا۔ صارفین کے لیے بھی ضروری ہے کہ میٹر ریڈنگ اور ماہانہ بل کا ریکارڈ محفوظ رکھیں اور غیر معمولی ڈیٹیکشن بل کی صورت میں متعلقہ ڈسکو کے مقررہ شکایتی نظام سے رجوع کریں۔ شفاف بلنگ بجلی شعبے کی مالی اصلاح کے ساتھ صارف اعتماد کے لیے بھی بنیادی شرط ہے۔