لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ عرب امارات میں زیرحراست پاکستانی شہریوں سے متعلق مقدمے میں وزارت خارجہ سے تازہ پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے اہل خانہ کو اماراتی حکام نے حراست میں رکھا ہوا ہے اور انہیں مؤثر قونصلر معاونت اور قانونی معلومات تک رسائی درکار ہے۔
عدالتی کارروائی میں وزارت خارجہ کے کردار اور پاکستانی شہریوں کے لیے قونصلر رسائی کے انتظامات زیر بحث آئے۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ ہدایات کے باوجود ان کے مطابق مطلوبہ سطح کی معلومات اور مدد فراہم نہیں کی گئی۔ یہ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے اور عدالت نے ابھی کسی سرکاری افسر کو توہین عدالت کا مرتکب قرار نہیں دیا۔
مقدمے میں جن پاکستانی شہریوں کا ذکر کیا گیا ان کے اہل خانہ نے وزارت خارجہ سے رابطے، حراست کی وجوہات کی معلومات اور قانونی معاونت کے لیے اقدامات کی درخواست کی ہے۔ بیرون ملک کسی پاکستانی شہری کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں میزبان ملک کا قانون بنیادی طور پر نافذ ہوتا ہے، جبکہ پاکستانی سفارتی مشن دستیاب قانونی اور قونصلر دائرہ کار کے اندر معاونت فراہم کر سکتا ہے۔
عدالت نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ وہ واضح کرے کہ متعلقہ پاکستانی مشنز نے اماراتی حکام سے کیا رابطہ کیا، قونصلر رسائی کے لیے کیا اقدامات ہوئے اور زیرحراست افراد کے اہل خانہ کو کون سی معلومات فراہم کی گئیں۔ مقدمے کی اگلی سماعت کے لیے سرکاری جواب اہم ہوگا، کیونکہ عدالت اسی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ دیکھے گی کہ پہلے جاری کردہ ہدایات پر کس حد تک عمل ہوا۔
درخواست میں وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام کے خلاف عدالتی احکامات پر مبینہ عدم عمل درآمد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، تاہم توہین عدالت ایک الگ قانونی نتیجہ ہے جس کا فیصلہ عدالت ثبوت، جواب اور متعلقہ افسران کے طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد کرتی ہے۔ اس مرحلے پر اسے ثابت شدہ خلاف ورزی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان وسیع سفارتی، تجارتی اور افرادی روابط موجود ہیں اور بڑی تعداد میں پاکستانی شہری امارات میں مقیم یا روزگار سے وابستہ ہیں۔ موجودہ کیس کا فوری محور مخصوص زیرحراست افراد کی قانونی و قونصلر صورتحال ہے۔ عدالت کی آئندہ سماعت میں وزارت خارجہ کی رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ قونصلر رابطے اور قانونی معاونت کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

