اسلام آباد: وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، نیکٹا، کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 4 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری تین سال کے لیے سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر، فوری اثر سے اور تا حکمِ ثانی کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری سے یہ تقرری نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت کی گئی۔ میجر جنرل فیصل نصیر پر سیکنڈمنٹ سے متعلق معیاری شرائط و ضوابط لاگو ہوں گے، جن کا حوالہ سرکاری دستاویز میں JSI-4/85 کے طور پر دیا گیا ہے۔ تین سالہ مدت اور “تا حکمِ ثانی” دونوں عبارتیں نوٹیفکیشن کا حصہ ہیں؛ عملی مدت کسی بعد کے مجاز سرکاری حکم سے متاثر ہو سکتی ہے۔

میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس میں ڈائریکٹر جنرل (سی) کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ڈان کے مطابق ڈی جی (سی) کا دفتر ادارے کے داخلی ونگ کی سربراہی کرتا ہے اور داخلی سلامتی سمیت متعلقہ امور دیکھتا ہے۔ بعض رپورٹس میں اس عہدے کو عمومی طور پر کاؤنٹر انٹیلی جنس سے منسوب کیا گیا، تاہم دستیاب تفصیلی رپورٹ نے اسے آئی ایس آئی کے داخلی ونگ کا منصب قرار دیا ہے۔

نیکٹا کا بنیادی قانونی کردار وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دوسرے متعلقہ محکموں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہا پسندی کی پالیسیوں میں رابطہ کاری ہے۔ ادارہ قومی حکمت عملی اور ایکشن پلان تیار کرنے، خطرات سے متعلق معلومات یکجا کرنے، نفاذ کی نگرانی اور وفاقی حکومت کو سفارشات دینے کے لیے قائم قانونی فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے۔

نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی انتظامی قیادت، بین الادارہ رابطہ، پالیسی تیاری اور حکومتی فیصلوں کی پیروی میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔ تاہم یہ عہدہ تمام سکیورٹی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملی کمان خودکار طور پر اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ ہر ادارہ اپنے آئینی، قانونی اور انتظامی دائرۂ اختیار میں کام کرتا ہے، جبکہ نیکٹا کا بنیادی کام مشترکہ حکمت عملی اور رابطہ بہتر بنانا ہے۔

تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب ملک کو مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں، سرحد پار دراندازی کے الزامات، شدت پسند نیٹ ورکس اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بروقت معلوماتی تعاون جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی قیادت کے لیے قابلِ پیمائش کاموں میں قومی ایکشن پلان کی پیش رفت، خطرے کی مشترکہ تشخیص، صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم محکموں سے رابطہ اور پالیسی فیصلوں کی عملی نگرانی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومت نے تقرری کے ساتھ کوئی نیا مخصوص اہداف نامہ یا مدت وار کارکردگی منصوبہ جاری نہیں کیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر 2022 سے ڈی جی (سی) کے منصب پر تھے۔ حکومت نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس تبادلے کی مخصوص انتظامی وجہ کیا ہے یا آئی ایس آئی میں ان کے سابق عہدے پر کس کو تعینات کیا جائے گا۔ اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں غیر سرکاری قیاس کو تصدیق شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

موجودہ مصدقہ نتیجہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی تین سالہ سیکنڈمنٹ تقرری ہے۔ نیکٹا کی آئندہ ترجیحات، داخلی انتظامی تبدیلیوں، صوبائی رابطہ کاری کے نئے طریقۂ کار یا انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں کسی تبدیلی کے لیے الگ سرکاری نوٹیفکیشن یا نیشنل کوآرڈینیٹر کی باضابطہ پالیسی ہدایات درکار ہوں گی۔