اسلام آباد: وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، نیکٹا، کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری تین سال کے لیے سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری سے نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت کیا گیا۔ تقرری کی مدت تین سال درج ہے، تاہم حکم نامے میں ’’فوری طور پر اور تا حکمِ ثانی‘‘ کی عبارت بھی شامل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سروس کی معیاری شرائط و ضوابط لاگو ہوں گے جن کا حوالہ JSI-4/85 کے طور پر دیا گیا ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر کو سیکنڈمنٹ پر نیکٹا بھیجا گیا ہے۔ شائع شدہ اطلاعات میں انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ نئی ذمہ داری میں ان کا عہدہ نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کا ہوگا، جو ادارے کے انتظامی اور رابطہ کاری کے مرکزی منصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کسی عبوری انتظام، پیش رو کے تبادلے یا علیحدہ ذمہ داریوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
نیکٹا 2008 میں وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ ادارے کا قانونی و عملی دائرۂ کار انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہاپسندی سے متعلق قومی حکمتِ عملی اور عملی منصوبوں کی تیاری، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ، اور حکومتی سطح پر پیش رفت کی رپورٹنگ پر مشتمل ہے۔ نیکٹا کو 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کے مختلف حصوں کی نگرانی اور عمل درآمد میں رابطہ کاری کی ذمہ داریاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔
تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے جواب میں وفاقی حکومت، سکیورٹی اداروں اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے محکموں کے درمیان معلومات اور پالیسی سطح کے رابطے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم جاری نوٹیفکیشن صرف تقرری، قانونی بنیاد، مدت اور سروس کی نوعیت کی تصدیق کرتا ہے؛ اس میں نئے نیشنل کوآرڈینیٹر کے لیے کسی الگ پالیسی پروگرام، مخصوص آپریشن یا اہداف کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے اس فیصلے کا فوری اور مصدقہ نتیجہ یہی ہے کہ میجر جنرل فیصل نصیر نے وفاقی منظوری کے بعد تین سالہ سیکنڈمنٹ پر نیکٹا کی قیادت سنبھالنے کی قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ ادارے کی آئندہ ترجیحات یا تنظیمی تبدیلیوں سے متعلق مزید تفصیل نیکٹا، وزارتِ داخلہ یا وفاقی حکومت کے بعد کے اعلانات سے سامنے آئے گی۔




