اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اگلے ہفتے ریاض میں ہوگا۔ 2 اکتوبر کو پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ تینوں ممالک نے موجودہ علاقائی صورتحال، بالخصوص سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں مکمل کمیٹی کا اجلاس بلانے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔
ڈان کے مطابق کمیٹی میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت شامل ہے۔ ڈار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں بھی بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں مشاورت کی تھی، جبکہ تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ایک خصوصی ملاقات 25 ستمبر کو ریاض میں ہوئی۔ آئندہ ہنگامی اجلاس میں زمینی صورتحال اور سعودی عرب سے متعلق سکیورٹی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ڈار نے مدینہ میں بجلی کی تنصیب پر حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی اس کی مذمت کر چکا ہے۔ سعودی قیادت نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے، جبکہ حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اس لیے حملے کی ذمہ داری کو سعودی حکام کے دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے شہری انفراسٹرکچر اور مقدس مقامات سے منسلک سہولتوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کم از کم چھ ممالک نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔ ان کے مطابق اتحاد کو پہلے مکمل طور پر فعال ہونا ہوگا اور توسیع فوری طور پر نہیں ہوگی۔ معاہدے کی دستاویز میں اصولی طور پر دوسرے ممالک کے لیے شمولیت کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ وہ موجودہ ارکان کے طے کردہ اصول قبول کریں۔
مکہ دفاعی معاہدہ اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ آئندہ ریاض اجلاس کسی نئے رکن کی فوری شمولیت کا اعلان نہیں بلکہ موجودہ سکیورٹی صورتحال پر ہنگامی مشاورت ہے۔ اجلاس کے بعد ہی کسی مشترکہ عملی فیصلے یا ردعمل کی نوعیت واضح ہوگی۔
