پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں بلایا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس کا مرکزی موضوع یمن کے حوثی گروپ کے حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورت حال اور اس مسئلے سے نمٹنے کے ممکنہ راستے ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطہ بڑھانے کی ایک تجویز سامنے آئی ہے، جسے پاکستان نے باضابطہ پیش کش کے بجائے خیرسگالی پر مبنی خیال قرار دیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے رکن ممالک اس تجویز سمیت مختلف امکانات پر مشاورت کریں گے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ حوثیوں سے ممکنہ سیاسی رابطے کا معاملہ ابھی غور کے مرحلے میں ہے اور اسے کسی حتمی فیصلے یا مذاکراتی عمل کے آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق تینوں ممالک کے عسکری سربراہان 25 ستمبر کو بھی ملے تھے اور انہوں نے حوثی حملوں کی مذمت کی تھی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کئی دوسرے ممالک نے معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم نئی رکنیت پر غور اس وقت کیا جائے گا جب موجودہ دفاعی ڈھانچہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی پاکستان کا موقف دہرایا اور کہا کہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج اور بحیرہ احمر میں کشیدگی نے توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے آئندہ اجلاس کو خطے میں فوجی اور سفارتی آپشنز پر مشترکہ مشاورت کا فورم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اجلاس کے نتائج اس کے انعقاد اور رکن ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔