پاکستان ویمن فٹبال ٹیم کی کھلاڑی مریم محمود کو برطانوی کلب ریکسیم اے ایف سی نے اپنے انٹرنیشنل آنرز بورڈ میں شامل کرلیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق وہ ریکسیم ایف سی ویمنز کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں جن کا نام پاکستان کی بین الاقوامی نمائندگی کی بنیاد پر اس بورڈ پر درج ہوا۔ کلب کے اسی آنرز بورڈ پر پاکستان مینز ٹیم کے عمر نواز کا نام پہلے سے موجود ہے۔
مریم محمود نے اس اعزاز پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلب کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ اپنا نام دیکھنا ان کے لیے خواب جیسا تجربہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ڈیبیو، شائقین کی حمایت اور آئیوری کوسٹ میں تین میچ کھیلنے کو اپنے کیریئر کے اہم لمحات قرار دیا۔ یہ بیان ان کے ذاتی تجربے اور کلب کی طرف سے دیے گئے اعزاز سے متعلق ہے؛ اسے کسی ٹورنامنٹ ایوارڈ یا عالمی درجہ بندی کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
آنرز بورڈ کا مقصد کلب کے ان کھلاڑیوں کو نمایاں کرنا ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مریم کا شامل ہونا پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کی بیرونِ ملک کلب فٹبال میں موجودگی کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کی اہمیت خاص طور پر اس لیے بھی ہے کہ خواتین فٹبال میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے واضح پیشہ ورانہ راستے اور نمایاں رول ماڈلز کی تعداد اب بھی محدود ہے۔
مریم محمود نے کہا کہ بچپن میں ان کے سامنے کوئی خاتون فٹبال رول ماڈل نہیں تھا، اس لیے اب وہ خود نئی نسل، بالخصوص لڑکیوں، کو کھیل کی طرف آنے کی تحریک دینا چاہتی ہیں۔ کسی ایک اعزاز سے نظامی رکاوٹیں ختم نہیں ہوتیں، لیکن ایسے اعتراف سے کھلاڑیوں، خاندانوں اور کلبوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بین الاقوامی نمائندگی کے راستے موجود ہیں۔
پاکستانی خواتین فٹبال کی پائیدار ترقی کے لیے باقاعدہ قومی مقابلے، کلب سیزن، کوچنگ، محفوظ تربیتی ماحول اور بین الاقوامی میچ ضروری رہیں گے۔ موجودہ خبر کا تصدیق شدہ دائرہ مریم محمود کے نام کی ریکسیم آنرز بورڈ میں شمولیت اور ان کا بیان ہے۔ آئندہ ان کی کلب اور قومی ٹیم کی کارکردگی الگ مقابلہ جاتی نتائج سے جانچی جائے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




