اسلام آباد: میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ 20 ستمبر کو منعقد ہوگا جس میں ملک بھر سے ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت متوقع ہے۔ امتحان کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مختلف صوبوں میں نامزد ادارے اپنے اپنے امتحانی مراکز اور انتظامات کی نگرانی کریں گے۔
ٹیسٹ پہلے مقررہ وقت سے ملتوی کیا گیا تھا، جس کے بعد امیدواروں کے لیے اضافی رجسٹریشن کا مرحلہ بھی کھولا گیا۔ اس اضافی مدت میں دو ہزار سے زیادہ طلبہ نے رجسٹریشن کرائی، جس سے مجموعی امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ بڑی تعداد میں امیدواروں کی شرکت کے باعث امتحانی مراکز، نگرانی، سکیورٹی اور سوالیہ مواد کے محفوظ انتظامات پر خصوصی توجہ درکار ہوگی۔
پنجاب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سب سے بڑی تعداد میں امیدواروں کا امتحان لے گی، جہاں 49 ہزار 198 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تعداد ملک میں کسی ایک امتحانی ادارے کے تحت شریک امیدواروں میں سب سے زیادہ ہے۔ دیگر صوبوں اور علاقوں میں بھی متعلقہ نامزد جامعات اور ادارے ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
ایم ڈی کیٹ پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگراموں میں داخلے کے عمل کا اہم مرحلہ ہے۔ امیدواروں کی بڑی تعداد کے باعث ٹیسٹ کے شفاف، منظم اور یکساں انعقاد پر طلبہ اور والدین کی توجہ رہتی ہے۔ امتحان ملتوی ہونے کے بعد نئی تاریخ تک اضافی وقت ملا، لیکن شیڈول میں تبدیلی نے تعلیمی کیلنڈر اور داخلہ عمل کی رفتار پر بھی اثر ڈالا۔
امیدواروں کو امتحانی مرکز، رپورٹنگ ٹائم، شناختی دستاویزات اور مجاز اشیا سے متعلق جاری کردہ سرکاری ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ امتحان کے دن کسی بھی انتظامی تبدیلی یا مقامی ہدایت کے لیے متعلقہ امتحانی ادارے کی تازہ اطلاع دیکھنا ضروری ہوگا۔




