واشنگٹن: میٹا نے لاطینی امریکا کے 16 ہسپانوی بولنے والے ممالک میں Community Notes نظام کی آزمائش شروع کر دی ہے، جسے خطے میں پیشہ ور فیکٹ چیکنگ شراکت داریوں کی جگہ لینے کی سمت ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کی ڈائریکٹر اینجی ہولان نے اس فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف کمیونٹی نوٹس نقصان دہ غلط معلومات کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
میٹا کا کراؤڈ سورسڈ نظام صارفین کو فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر گمراہ کن یا متنازع پوسٹس کے ساتھ سیاق و سباق فراہم کرنے والے نوٹس لکھنے اور ان کی درجہ بندی میں حصہ لینے دیتا ہے۔ یہ ماڈل ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس کے Community Notes سے متاثر ہے۔ میٹا نے امریکا میں گزشتہ سال پیشہ ور فیکٹ چیکنگ شراکت داری ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعد میں کمیونٹی نوٹس کو اس کا متبادل بنایا۔
لاطینی امریکا کی آزمائش میں ارجنٹینا، بولیویا، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، میکسیکو، نکاراگوا، پاناما، پیراگوئے، پیرو، یوراگوئے اور وینزویلا شامل ہیں۔ پرتگالی بولنے والا برازیل، جو خطے میں میٹا کا سب سے بڑا بازار ہے، اس ابتدائی فہرست میں شامل نہیں۔
میٹا کے مطابق ان 16 ممالک کے صارفین ٹیسٹ کے دوران بطور کنٹریبیوٹر رجسٹر ہو سکتے ہیں، مگر آزمائشی مرحلے میں نوٹس عوام کو نظر نہیں آئیں گے اور موجودہ آزاد فیکٹ چیکنگ پروگرام فی الحال معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ کمپنی نے مکمل منتقلی کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی اور کہا ہے کہ نظام کے قابل اعتماد طریقے سے کام کرنے پر ہی اسے وسیع پیمانے پر نافذ کیا جائے گا۔
امریکا میں Community Notes کے 14 لاکھ سے زیادہ کنٹریبیوٹرز بتائے جاتے ہیں۔ ناقدین کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اتفاق رائے پر مبنی کراؤڈ سورسنگ ہر قسم کی وائرل غلط معلومات، منظم پروپیگنڈا یا فوری نقصان دہ دعووں کا بروقت جواب نہیں دے سکتی، جبکہ حامی اسے مرکزی اداروں کی بجائے صارف برادری کے ذریعے سیاق فراہم کرنے کا طریقہ سمجھتے ہیں۔ لاطینی امریکا کا تجربہ اس بحث کے لیے اہم آزمائش ہوگا کہ بڑے سوشل پلیٹ فارم پیشہ ور فیکٹ چیکنگ اور صارف پر مبنی نوٹس کے درمیان کس توازن کو اپناتے ہیں۔




