مینلو پارک: میٹا نے اپنی سالانہ میٹا کنیکٹ تقریب میں ’میوز چارم‘ نامی ایک نئی ہینڈ ہیلڈ مصنوعی ذہانت ڈیوائس متعارف کرائی ہے، جسے کمپنی اپنے میوز اے آئی ایجنٹ کو اسمارٹ فون سے باہر روزمرہ استعمال میں لانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ڈیوائس جسامت میں جیب گھڑی کے قریب ہے اور اسے براہِ راست میوز تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
میوز چارم میں تقریباً دو انچ، یعنی پانچ سینٹی میٹر، کی اسکرین اور بلٹ اِن 5G موڈیم شامل ہے۔ صارف اسکرین پر موجود میوز کردار کے ذریعے اے آئی فیچرز استعمال کر سکتا ہے اور Wi-Fi نہ ہونے کی صورت میں بھی موبائل نیٹ ورک کے ذریعے سروس سے منسلک رہ سکتا ہے۔ تاہم کمپنی کے مطابق یہ ڈیوائس عام موبائل فون کی طرح وائس کال کرنے کے لیے تیار نہیں کی گئی۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے تقریب میں کہا کہ کمپنی اب ’پرسنل سپر انٹیلی جنس‘ کو اپنی اگلی بڑی کمپیوٹنگ سمت سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق میٹا کا زور ایسے آلات پر بڑھ رہا ہے جو اے آئی اسسٹنٹ کو زیادہ براہِ راست اور ذاتی انداز میں صارف کے ساتھ جوڑ سکیں۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ میوز کو اس کے اسمارٹ گلاسز کی لائن اپ میں مزید وسیع پیمانے پر شامل کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق میٹا کی یہ حکمت عملی اس کی اس دیرینہ کوشش کا حصہ ہے جس میں وہ ایپل اور گوگل کے موبائل آپریٹنگ سسٹمز پر انحصار کم کر کے اپنا ہارڈ ویئر اور اے آئی ماحولیاتی نظام بنانا چاہتی ہے۔ ماضی میں کمپنی نے میٹاورس کو اگلا بڑا کمپیوٹنگ پلیٹ فارم قرار دیا تھا، مگر اب زکربرگ مصنوعی ذہانت کو زیادہ فوری اور بڑے موقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
میوز ایپ نے حالیہ دنوں میں تیزی سے صارفین حاصل کیے ہیں، لیکن الگ اے آئی ہارڈ ویئر کی کامیابی ابھی غیر یقینی ہے۔ اس سے پہلے مارکیٹ میں آنے والی بعض اے آئی پن اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز بڑے پیمانے پر قبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق میوز چارم کا چھوٹا ڈیزائن، ذاتی نوعیت اور پرانی طرز کے گیجٹس سے مشابہت نوجوان صارفین کو متوجہ کر سکتی ہے، لیکن قیمت، عملی فائدہ اور بیٹری جیسے عوامل اس کی عام قبولیت کے لیے اہم ہوں گے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں میوز چارم کی حتمی قیمت، فروخت کے آغاز کی مکمل عالمی تاریخ اور ممکنہ مارکیٹوں کی تفصیل شامل نہیں تھی۔ اس لیے موجودہ اعلان کو پروڈکٹ کے تعارف اور میٹا کی اے آئی ہارڈ ویئر حکمت عملی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تجارتی کامیابی کا اندازہ فروخت شروع ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

