پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر پاکستانی میڈیا اداروں نے پی سی بی سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مصباح نے اپنا استعفیٰ بورڈ کو ای میل کے ذریعے ارسال کیا اور وہ ضابطے کے مطابق نوٹس کی مدت پوری کریں گے۔

یہ پیش رفت انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ اور کوچنگ عملے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ پاکستان سیریز میں دو صفر سے پیچھے ہے اور آخری ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جانا ہے۔ بورڈ نے سات کھلاڑیوں کو موجودہ اسکواڈ سے ریلیز کرکے ان کے متبادل طلب کیے ہیں۔

رپورٹس میں ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مصباح اسکواڈ میں اتنی بڑی تعداد میں تبدیلیاں کیے جانے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں تھے اور انگلینڈ بھیجے جانے والے بعض متبادل کھلاڑیوں کے معاملے میں ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ پی سی بی یا مصباح الحق کی جانب سے فوری طور پر اختلافات کی مکمل تفصیل پر باضابطہ عوامی بیان سامنے نہیں آیا، اس لیے استعفے کی وجہ سے متعلق یہ نکات ذرائع سے منسوب رپورٹس کے طور پر بیان کیے جا رہے ہیں۔

پی سی بی نے آخری ٹیسٹ سے پہلے کوچنگ عملے میں بھی تبدیلی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو ذمہ داریوں سے ہٹا کر وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو آخری ٹیسٹ کے لیے ٹیم کی نگرانی سونپی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں مسلسل دو ٹیسٹ شکستوں کے بعد کی گئی ہیں۔

مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں اور اس سے پہلے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا سلیکشن کمیٹی سے الگ ہونا ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹیم کی کارکردگی، کھلاڑیوں کے انتخاب اور کوچنگ ڈھانچے پر شدید بحث جاری ہے۔ بورڈ کی جانب سے ان کے متبادل یا سلیکشن کمیٹی کی آئندہ ساخت کے بارے میں فوری اعلان سامنے نہیں آیا۔