اسلام آباد: پاکستان کے کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,800 کلومیٹر طویل مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سمیت متعدد بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو دی گئی بریفنگ کے مطابق منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت تقریباً 6.68 سے 6.80 ارب ڈالر کے درمیان رکھی گئی ہے، جو پہلے تخمینے تقریباً 9 ارب ڈالر سے کم ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو ممکنہ طور پر مرکزی مالیاتی ادارے کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور عالمی بینک سے شریک فنانسنگ کی توقعات بھی موجود ہیں۔ یورپی سرمایہ کاری بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی نے بھی منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ مرحلہ ابھی حتمی قرض معاہدوں کے برابر نہیں ہے اور فنانسنگ کی ساخت، شرائط اور اداروں کے حصے مزید مذاکرات اور منظوریوں کے بعد واضح ہوں گے۔
ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کے بنیادی شمال جنوب رابطے کو جدید بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبہ صرف پٹری اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی بحالی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پاکستان ریلوے کی انتظامی اور آپریشنل اصلاحات بھی اس کا حصہ ہیں۔ موجودہ منصوبہ بندی میں انفراسٹرکچر کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رفتار برداشت کرنے کے قابل بنانے کی تجویز ہے، جبکہ ابتدائی آپریشنل رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے اس فرق پر سوال اٹھایا اور تجویز دی کہ جہاں تکنیکی اور مالی طور پر ممکن ہو، نئی انفراسٹرکچر صلاحیت کا مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے آپریشنل رفتار کو بھی 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب لایا جائے۔ حکام نے منصوبے کی تعمیر کے لیے تقریباً تین سال کی مدت کا ہدف بتایا۔
ایم ایل ون طویل عرصے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا رہا ہے، لیکن فنانسنگ کی ساخت میں تبدیلی کے بعد حکومت نے دوسرے کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ نئے انتظامات پر کام شروع کیا ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن پہلے بھی ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ منصوبے کے ڈیزائن کو بروقت حتمی شکل دینے پر بات کر چکا ہے۔
تازہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ متعدد بڑے قرض دہندگان اب ایک ہی منصوبے کے مختلف حصوں کے لیے ممکنہ شریک بن سکتے ہیں، تاہم حتمی مالی پیکیج ابھی طے نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو بین الاقوامی اداروں کی دلچسپی اور ممکنہ شریک فنانسنگ کی تیاری سمجھا جائے گا، نہ کہ تمام 6.8 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی حتمی منظوری۔
