اسلام آباد/کراچی: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے پانچ عملے کے ارکان میں تین پاکستانی شہری شامل تھے۔ ہلاک پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ چار زخمی عملے میں بھی تین پاکستانی شامل ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق زندہ بچ جانے والے عملے کو صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کے ساحلی مقام بندر بیلا پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہوئی، جبکہ اسلام آباد نے کہا ہے کہ وہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ حکومت زخمیوں کے علاج، جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن منتقل کرنے اور زندہ بچ جانے والے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے انتظامات کر رہی ہے۔
ایم ٹی آنر 25 کو اپریل 2026 میں صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا اور کئی ماہ تک عملہ یرغمال رہا۔ جہاز پر پاکستانیوں سمیت مختلف ملکوں کے شہری سوار تھے۔ پنٹ لینڈ کی میری ٹائم فورس نے ستمبر کے آخر میں بندر بیلا کے علاقے میں کارروائی کرکے جہاز کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق جہاز اب سرکاری کنٹرول میں ہے اور قزاقوں کے خلاف مزید کارروائی بھی کی گئی۔
ہلاکتوں کے حالات کے بارے میں پنٹ لینڈ کے حکام نے کہا کہ کارروائی شروع ہونے سے قبل قزاقوں نے پانچ عملے کے ارکان کو قتل کیا، جن میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل تھا۔ بعض پاکستانی زندہ بچ جانے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں، تاہم ان بیانات کے تمام پہلو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اس لیے فائرنگ کے عین وقت اور کارروائی کی مکمل ترتیب سے متعلق مختلف تفصیلات کو متعلقہ ذرائع کے بیانات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی خاندانوں نے حکومت سے جاں بحق افراد کی میتیں اور زخمیوں کو جلد وطن واپس لانے کی اپیل کی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ متعلقہ مشنز اور حکام اس مقصد کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ زخمیوں کی موجودہ طبی حالت کے بارے میں محدود سرکاری معلومات جاری کی گئی ہیں، البتہ یہ تصدیق کی گئی ہے کہ انہیں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ کئی ماہ سے جاری یرغمالی بحران کے اختتام کی ایک سنگین پیش رفت ہے۔ جہاز کی بازیابی کی تصدیق ہو چکی ہے، لیکن پاکستانی عملے کی مکمل وطن واپسی اور میتوں کی منتقلی کا عمل ابھی جاری ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر ہلاکتوں اور کارروائی کے حالات کی تصویر مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
