اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالی ساحل کے قریب ہائی جیک شدہ پیٹرولیم ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرانے کے لیے پنٹ لینڈ فورسز کے آپریشن کے دوران تین پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ چار پاکستانی عملہ ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت پاکستان جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے اور زندہ بچ جانے والے عملے کو قونصلر معاونت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کے بیان کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ چار زخمی پاکستانیوں کو قریبی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ دیگر زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا کے ساحل پر پہنچا دیا گیا۔ پاکستان کا سفارتی عملہ جبوتی سے بندر بیلا کی جانب روانہ ہوا تاکہ متاثرہ پاکستانی شہریوں کی مدد کی جا سکے۔

پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اس کی فورسز نے ٹینکر کو بازیاب کرا لیا اور 16 مبینہ قزاقوں کو گرفتار کیا۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے قبل پانچ عملہ ارکان کو قتل کر دیا گیا تھا، جن میں تین پاکستانی، میانمار کا ایک اور بھارت کا ایک شہری شامل تھا۔ یہ تفصیل پنٹ لینڈ حکام کے بیان سے منسوب ہے اور اس واقعے سے متعلق تحقیقات اور مکمل آپریشنل حقائق متعلقہ حکام کی مزید معلومات کے تابع ہیں۔

پالاؤ کے پرچم بردار ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو پنٹ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل دور قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ جہاز پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق حکومت صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ اپنے مشن اور سرکاری اداروں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن سے بھی رابطہ کیا تھا اور ٹینکر پر موجود پاکستانی ملاحوں کی محفوظ رہائی اور واپسی کے لیے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ تازہ پیش رفت کے بعد فوری توجہ زخمیوں کے علاج، زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی مدد اور جاں بحق افراد کی میتوں کو ان کے اہل خانہ تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔ دفتر خارجہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطن واپسی کے انتظامات کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔