اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ ربیع 2026-27 کے لیے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 5,000 روپے فی 40 کلو یا اس سے زیادہ مقرر کی جائے۔ کمیٹی نے ساتھ ہی ملک بھر کے کسانوں کے لیے ایک سادہ، قابل رسائی اور یکساں سبسڈی طریقہ کار بنانے پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کا 31واں اجلاس یکم اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ارکان نے کہا کہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کو گندم کی بوائی شروع ہونے سے پہلے حتمی شکل دے کر جاری کیا جانا چاہیے، کیونکہ بوائی کے بعد قیمت یا پالیسی کے فیصلوں کا کسانوں کے لیے عملی فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔
کمیٹی کو وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے گزشتہ سال کی عبوری گندم پالیسی، مجوزہ قومی گندم پالیسی اور مختلف سبسڈی ماڈلز کے بارے میں بریفنگ دی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک ہفتے کے اندر مشاورت مکمل کرنے اور بوائی کے موسم سے پہلے پالیسی کا اعلان کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔
اجلاس میں زرعی شعبے کو درپیش بڑھتی ہوئی لاگت، کم میکانائزیشن، معیاری بیجوں کی کمی، تحقیق کی محدود صلاحیت، ناکافی ذخیرہ گاہوں، کمزور برآمدی کارکردگی اور پالیسی میں تاخیر جیسے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ کمیٹی نے کہا کہ مختلف صوبوں میں کسانوں کے لیے امداد کا طریقہ مختلف ہے، جس سے قومی سطح پر یکسانیت متاثر ہوتی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کسان کارڈ کے ذریعے تعاون کے ماڈل پر غور کر رہا ہے، سندھ 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو امداد فراہم کر رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا 5,000 روپے مالیت کی امداد اشیا کی صورت میں دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا کہ ایسا طریقہ بنایا جائے جو کسانوں کے لیے پیچیدہ نہ ہو اور ملک بھر میں نسبتاً یکساں اصولوں پر قابل عمل ہو۔
ارکان نے پاسکو کی بندش کے بعد گندم کے ذخیرے اور مارکیٹنگ کے انتظامات پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کسانوں کے پاس پیداوار محفوظ رکھنے اور فروخت کرنے کے متبادل محدود ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی مصنوعی قیمت بڑھانے والے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی۔
اہم بات یہ ہے کہ 5,000 روپے فی 40 کلو کی سطح فی الحال پارلیمانی کمیٹی کی سفارش ہے، وفاقی حکومت کی حتمی طور پر نافذ شدہ امدادی قیمت نہیں۔ حتمی نرخ اور قومی گندم پالیسی کا اطلاق متعلقہ حکومتی منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی ہوگا۔

