نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے 30 لاکھ سے زیادہ پنشنرز کے لیے چہرے کی شناخت پر مبنی قومی پنشنرز تصدیقی نظام، یعنی نیشنل پنشنرز ویریفیکیشن سسٹم، فعال کردیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس نظام کا باقاعدہ افتتاح 20 اگست کو کیا تھا، جس کے بعد اسے وفاقی و صوبائی حکومتوں، مسلح افواج اور خودمختار اداروں سے پنشن لینے والے افراد کے لیے عملی طور پر استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

نئے نظام کا مقصد پنشنرز کو زندگی کی تصدیق کے لیے بار بار بینک یا متعلقہ دفتر جانے، کاغذی دستاویزات جمع کرانے اور صرف انگلیوں کے نشانات پر انحصار سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کرنا ہے۔ بزرگ، بیمار یا معذور افراد کے انگلیوں کے نشانات عمر یا جسمانی حالت کے باعث مدھم ہوسکتے ہیں، جس سے روایتی بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہونے کا امکان رہتا ہے۔ این پی وی ایس میں ایسی صورت میں چہرے کی شناخت کو متبادل ڈیجیٹل طریقے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق کامیاب چہرہ شناخت کے بعد نظام ایک ڈیجیٹل ’’پروف آف لائف‘‘ سرٹیفکیٹ تیار کرتا ہے اور اسے متعلقہ پنشن کنٹرولر یا ادائیگی کے ذمہ دار ادارے تک منتقل کرتا ہے۔ اس عمل کو پنشنر کے لیے مفت بتایا گیا ہے۔ کامیاب تصدیق کا مطلب شناخت اور زندہ ہونے کی ڈیجیٹل توثیق ہے؛ پنشن کی رقم، واجبات، سروس ریکارڈ یا کسی مالی تنازع کا حتمی فیصلہ متعلقہ پنشن ادارہ اپنے قواعد کے مطابق کرے گا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی پنشنرز کے لیے دور سے تصدیق کی سہولت اس نظام کی ایک اہم خصوصیت قرار دی گئی ہے۔ ایسے افراد کو محض حیات ہونے کی تصدیق کے لیے پاکستان آنے یا سفارتی و بینکاری کاغذی کارروائی کے متعدد مراحل سے گزرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم عملی رسائی کے لیے درست شناختی ریکارڈ، قابل استعمال کیمرہ یا تصدیقی مرکز اور متعلقہ ادارے کا این پی وی ایس سے منسلک ہونا ضروری ہوگا۔

نادرا نے اس نظام کو اپنے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ڈیٹابیس سے منسلک کیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق وفات، ازدواجی حیثیت میں تبدیلی، خاندان کے کم عمر فرد کے بالغ ہونے یا قومی شناختی کارڈ کی منسوخی جیسی ریکارڈ تبدیلیوں پر متعلقہ پنشن ادارے کو فوری اطلاع مل سکتی ہے۔ اس کا مقصد غیر متعلقہ یا غیر مستحق ادائیگی روکنا اور اصل مستحق افراد کی پنشن جاری رکھنے کے عمل کو زیادہ درست بنانا ہے۔ ہر اطلاع کے بعد مالی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ قانون اور ادارے کی جانچ سے ہوگا؛ محض ڈیجیٹل الرٹ خود بخود ہر ادائیگی ختم کرنے کا حتمی حکم نہیں۔

رپورٹ میں پاکستان ریلوے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، واپڈا، پیسکو، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور جامعات سمیت مختلف اداروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پورے نظام کی کامیابی کا انحصار ان اداروں کے پنشن ریکارڈ، ادائیگی کے پلیٹ فارم اور شکایتی نظام کو نادرا کی تصدیق کے ساتھ درست طور پر مربوط کرنے پر ہوگا۔

ڈیجیٹل چہرہ شناخت سہولت کے ساتھ غلط شناخت، تکنیکی ناکامی، ذاتی معلومات کے تحفظ اور ان افراد کے لیے متبادل طریقے بھی اہم ہیں جن کا چہرہ کسی بیماری، حادثے یا کم معیار کی تصویر کے باعث پہچانا نہ جاسکے۔ شائع شدہ رپورٹ نے اپیل، دستی تصدیق یا ڈیٹا تحفظ کے تمام تفصیلی قواعد بیان نہیں کیے، اس لیے پنشنرز کو ناکام تصدیق کی صورت میں اپنے پنشن ادارے یا نادرا کے مجاز چینل سے رجوع کرنا ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 20 اگست کا رسمی افتتاح، 5 ستمبر تک نظام کا فعال ہونا، چہرے کی شناخت سے مفت پروف آف لائف سرٹیفکیٹ، بیرون ملک تصدیق اور خاندانی ریکارڈ میں تبدیلی کے الرٹس ہیں۔ اسے پنشن کے ہر ممکن تنازع یا تمام اداروں کے مکمل انضمام کا حتمی حل سمجھنے کے لیے مزید عملی کارکردگی کے اعداد درکار ہوں گے۔